Al-Risala · July 1978 · page 34

چند سوالات

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴

رک جائیں۔ مگر جدید دور میں اس کو رد کر دیا گیا۔ پہلا نمایاں شخص جس نے مجرموں کی سزا میں تخفیف کی وکالت کی وہ اٹلی کا ماہرِ جُرمیات کیساری بیکیر یا ( ۱۹۱۷ء - ۱۳۸۷) تھا۔ اس کے بعد سے اب تک جرمیات (CRIMINALOLOGY) کے موضوع پر بہت کام ہوا ہے، ماہرین کا عام طور پر یہ خیال ہو گیا تھا جرم کوئی " ارادی واقعہ " نہیں ، اس کے اسباب حیاتیاتی ساخت ، ذہنی بیماری، معاشی تنگی، سماجی حالات وغیرہ میں ہوتے ہیں۔ اس لئے مجرم کو سزا دینے کے بجائے اس کا " علاج " کرنا چاہئے۔ حتی کہ تین درجن سے زیادہ ایسے ملک ہیں جنہوں نے موت کی سزا کو اپنے یہاں ختم کر دیا ہے۔ اگر چہ یہ خاتمہ بھی صرف اخلاقی جرائم کی حد تک ہوا ہے ۔ سیاسی اور فوجی جرائم کے سلسلے میں اب بھی ہر ملک ضروری سمجھتا ہے کہ مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے ۔ مگر جنگِ عظیم ثانی کے بعد جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کو روکنے کی تمام معالجاتی تدبیریں ناکام ہو چکی ہیں۔ چنانچہ کئی ملکوں مثلاً ڈیلاویئر ( DELAWARE ) اور شری لنکا میں پہلےسزائے موت ختم کی گئی تھی اور اب اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ماہرین قانون میں دوبارہ ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایک بیرسٹر نے کہا ہے کہ لوگوں میں یہ عام تاثر ہونا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنا، مجرم کو موت کی سزا کا مستحق بناتا ہے، اپنے اندر بہت بڑی مانع قدر (DETERRENT VALUE) رکھتا ہے " یہ تجربہ اس مفروضہ کی تصدیق کرتا ہے کہ جرم کی سزا کا مسئلہ جن پیچیدہ سوالات سے گہری واقفیت چاہتا ہے، الہیٰ قانون میں اس کی رعایت وضعی قانون سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔

اوپر جو کچھ عرض کیا گیا، اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ۱۔ وضعی قانون کوئی قابل قبول اصولِ قانون دریافت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مزید یہ کہ وہ آئندہ بھی ناکام ہی رہے گا۔ کیونکہ انسان کی محدودیت یہاں راہ میں حائل ہو رہی ہے ۔ ۲۔ وہ واقعہ جس نے انسان کے لئے اصولِ قانون کی دریافت کو نا ممکن بنا دیا ہے ، اسی میں الہیٰ قانون کی صداقت کا قرینہ چھپا ہوا ہے۔ کیونکہ ایک طرف ذہنِ انسانی کی محدودیت اور دوسری طرف حقائق کی وسعت ظاہر کر رہی ہے کہ کوئی ایسا ذہن ہو جو انسانی ذہن سے بر تر ہو اور جس کے اندر سارے حقائق موجود ہوں۔ ۳۔ کائنات میں ایسے واقعات ہیں جو فطرت اور جبلّت کی سطح پر الہام کا امکان ثابت کر رہے ہیں ۔ الہیٰ قانون اس میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے کہ اس الہام کو انسان تک وسیع کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس مفروضہ کو مزید موئید کرتا ہے کہ موجودہ الہی قانون میں کچھ ایسی برتر امتیازی خصوصیات ہیں جو اسی وقت قابلِ فہم ہو سکتی ہیں جبکہ یہ مانا جائے کہ وہ ایسے ذہن سے نکلا ہے جو انسان کے مقابلہ میں زیادہ وسیع طور پر حقائق کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

چند سوالات

اگر یہ مان لیا جائے کہ الہی قانون ہی اصول قانون کی تلاش کا جواب ہے جب بھی چند سوالات باقی رہتے ہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page