Al-Risala · July 1978 · page 45

چند سوالات

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۵

ا- مختلف مذاہب " الہی قانون " کا حامل ہونے کے دعوے دار ہیں اور ان میں کافی اختلافات بھی ہیں۔ پھر وہ کون سا معیار ہوگا جس کی بنیاد پر کسی ایک مذہب کے قانون کو الہی قانون قرار دیا جائے گا۔ ۲- کسی ایک مذہب کو معیار ماننے کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان کے اندرونی اختلافات کو طے کرنے کی صورت کیا ہوگی۔

۳- یہ الہی قانون ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم زمانہ میں آیا۔ اس دوران میں زندگی میں بے شمار تبدیلیاں ہو گئیں۔ پھر اس کو نئے حالات کے مطابق کس طرح بنایا جائے گا۔

یہ تین بڑے سوالات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں مختصر عرض کردوں گا۔

مذاہب کی کثرت سے یہ بات یقیناً ثابت ہوتی ہے کہ ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے اس کا قانون بھیجا گیا۔ مگر ان کا باہمی اختلاف یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ہی ہوگا جس کو الہی قانون کا صحیح نماینده قرار دیا جا سکے ۔ تعدد (PLURALISM) عقلی طور پر ناقابل فہم عقیدہ ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو مستند نمائندہ کی حیثیت سے منتخب کرنے کی صورت کیا ہو اس کا بالکل سیدھا سادا طریقہ یہ ہے کہ ان کو تاریخ کے معیار پر جانچا جائے اور جس مذہب کا تاریخی طور پر محفوظ اور معلوم ہونا ثابت ہو جائے اس کو لے لیا جائے۔

اگر میں یہ کہوں تو یقیناً میں کسی صاحب علم کی معلومات میں اضافہ نہیں کروں گا کہ تاریخی جانچ کی کسوٹی پر صرف ایک ہی مذہب پورا اترتا ہے اور وہ اسلام ہے۔ آپ کوئی بیا گرافیکل ڈکشنری کھولیں تو تمام پیغمبروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اکیلے ہوں گے جن کے نام کے آگے عام قاعدہ کے مطابق تو سین میں (۵۳۲- ۵۷۰) لکھا ہوا ہو گا جس طرح دوسری تاریخی شخصیتوں کے نام کے آگے ہوتا ہے۔ حضرت محمد واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی تاریخ کے تحریری ریکارڈ میں شامل ہے۔ آپ کے متعلق ہر بات معلوم ہے اور آپ کے تبرکات اور مکتوبات تک اصلی حالت میں موجود ہیں۔ حتی کہ معاصر مورخین کے یہاں بھی آپ کا نام ثبت ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر عین آپ کے زمانہ حیات میں ساتویں صدی عیسوی میں آرمینی زبان میں ایک کتاب (CHRONICLE OF SEBEOS) لکھی گئی۔ اس کتاب کا آرمینی متن پیٹرو گراڈ سے 1879 میں ۱۱۸ صفحات پر شائع ہوا اور اس کے بعد روسی اور دوسری زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔ انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے مقالہ نگار پروفیسر مارگولیتھ (D. S. MARGOLIOUTH) (۱۹۳۰- ۱۸۵۸) نے حضرت محمد کے بارے میں اس کے اندراجات کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں نقل کیا ہے :

HE WAS AN ISMAELITE WHO TAUGHT HIS COUNTRYMEN TO RETURN TO THE RELIGION OF ABRAHAM AND CLAIM THE PROMISES MADE TO THE DESCENDENTS OF ISMAEL. (Vol.8, p.872)

وہ ایک اسمعیلی تھے جنہوں نے اپنے اہل ملک کو یہ تعلیم دی کہ وہ ابراہیم کے مذہب کو اپنائیں اور یہ دعویٰ کیا کہ خدا ان

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page