چند سوالات
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۶
وعدوں کو ان پر پورا کرے گا جو اس نے اسمعیل کی اولاد کے ساتھ کئے ہیں۔ ) یہ صرف حضرت محمد کی خصوصیت ہے کہ جب کوئی محقق آپ پر قلم اٹھاتا ہے تو وہ لکھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ تاریخ کی کامل روشنی میں پیدا ہوئے: ----BORN WITHIN THE FULL LIGHT OF HISTORY (ENCYCLOPEDIA AMERICANA)
اسی طرح وہ قرآن جس کو حضرت محمد نے یہ کہہ کر پیش کیا کہ یہ میرے پاس خدا کی طرف سے آیا ہے، وہ تمام و کمال محفوظ ہے۔ تمام محققین نے اس کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ یہ صرف قرآن ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کے بارے میں جب آپ کسی محقق کو پڑھتے ہیں تو اس کے یہاں لکھا ہوا ملتا ہے :
"THE QURAN APPEARS TO BE THE MOST PART AUTHENTIC"
"THE VERY WORDS THAT HE UTTERED AS A REVELATION AND THAT WERE COLLECTED IN HIS LIFETIME". Encyclopedia Britanica یعنی قرآن بالکل مستند شکل میں محفوظ ہے۔ حضرت محمد نے جو الفاظ بطور الہام اپنی زبان سے نکالے تھے۔ قرآن عین انہیں الفاظ پر مشتمل ہے جو آپ کی زندگی ہی میں مرتب کر لیا گیا تھا۔ مقدس کتابوں کی تاریخ میں یہ بات انتہائی عجیب ہے کہ ہرن کی کھال پر لکھا ہوا وہ قرآن آج بھی تاشقند کی لائبریری میں محفوظ ہے جو پیغمبر اسلام کے داماد اور خلیفہ ثالث عثمان غنی (۶۵۶ - ۶۲۳) کے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ قرآن کے ابتدائی نسخہ اور موجودہ متداول نسخوں میں ایک لفظ کا بھی فرق نہیں۔ سر ولیم میور ( ) نے لکھا ہے :
"یہی ایک نکتہ کہ مسلمانوں کے فرقے ہر زمانہ میں قرآن کے ایک ہی نسخے کے پیرو رہے ہیں، قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ جو قرآن آج ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہی قرآن ہے جسے عثمان کے حکم سے جمع کیا گیا۔ میرا گمان ہے کہ قرآن کے سوا تمام دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کا متن بارہ صدیوں تک اتنا محفوظ اور آلائش سے پاک رہا ہو ؟ " EXCEPT THE QUR'AN, THERE IS NO OTHER BOOK UNDER THE SUN, WHICH FOR THE LAST TWELVE CENTURIES HAS REMAINED WITH SO PURE A TEXT. Life of Mohammed, Introduction by Sir W.-Muir, London 1858 میں شاید یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ الہی قانون کی بنیادی صداقت کو تسلیم کرنے کے بعد ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کا سب سے زیادہ غیر مشتبہ علمی معیار تاریخ ہی ہو سکتا ہے اور وہ بلا شبہ قرآن کے حق میں فراہم ہو گیا ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ خود اسلام کے اندرونی اختلافات کو کس طرح طے کیا جائے۔
یہ مسئلہ جو بظاہر بھیانک معلوم ہوتا ہے اس وقت بالکل معمولی نظر آنے لگتا ہے جب ہم اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ کہ انسانی طبائع میں اختلاف کی وجہ سے تعبیرات و تشریحات میں اختلاف ناگزیر ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ زندگی کا ایک مسئلہ۔ اس کا نہایت سادہ حل قرآن نے یہ تجویز کیا ہے کہ جب کوئی اختلافی سوال کھڑا ہو تو ہر شخص اس پر طبع آزمائی نہ کرے بلکہ اس کو ان لوگوں کے پاس لے جایا جائے جو علم اور تحقیق کے مالک ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues