چند سوالات
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۷
وَاِذَا جَاءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ وَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلَى اُوْلِي الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْبِطُوْنَهُ مِنْهُمْ نِسَار - ۳۸ یہ اختلاف پیدا ہونے کی شکل میں پہلا قدم ہے۔ لیکن اگر اصحاب علم کی مجلس بھی کسی ایک رائے پر نہ پہنچ سکے تو آخری تدبیر یہ بتائی گئی کہ رائے شماری کے ذریعہ کسی ایک فیصلے پر پہنچ کر اس کے مطابق عمل کرو: وَامْرُهُمْ شُوْرَى بَيْنَهُمْ (شوری - ۳۸)
اور ان کا کام باہم مشورہ سے ہوتا ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ الہی قانون کا اندرونی اختلاف صرف ایک علمی مسئلہ ہے، وہ کوئی عملی مسئلہ نہیں۔ الہی قانون میں چونکہ بنیادی اصول طے شدہ ہیں ، اس لئے علمی بحثیں اسی کے دائرہ میں ہوں گی۔ ان بحثوں سے نہ صرف یہ کہ کوئی حقیقی خرابی نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ کئی پہلوؤں سے فکری ارتقاء میں مددگار ہیں۔ جہاں تک عملی ضرورت کے لئے کسی ایک تعبیر کی تعیین کا سوال ہے، وہ اجتماعی ادارہ یا پارلیمنٹ کے ذریعہ پوری ہو جاتی ہے۔
نئے پیدا شدہ حالات کے سلسلے میں الہی قانون کی رہنمائی کس طرح حاصل ہوگی ، اس کا جواب اجتہاد ہے۔ اجتہاد کا مطلب سادہ طور پر یہ ہے کہ خدا نے جو بنیادی قانون ( قرآن کی صورت میں ) دیا ہے اور خدا کے رسول نے اس کی جو لسانی یا علمی تشریح کی ہے، اس کا گہرا علم حاصل کرنا اور اس کو سامنے رکھ کر پیش آمدہ مسائل میں الہی قانون کا انطباق تلاش کرنا۔ اس انطباق کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ قرآن وحدیث سے قانونی دفعات اخذ کر کے اس کو ہر زمانہ میں نافذ کیا جاتا رہے۔ بلکہ اس میں خود خارجی دنیا کے غیر متصادم قوانین کو الہی قانون کے ڈھانچہ میں قبول کرنا بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں عراق، مصر، شام فتح ہوئے تو آپ نے ان ملکوں میں سابقہ رومی، یونانی اور ایرانی قانون مال گزاری کو باقی رکھا۔ البتہ جو چیزیں ظلم نظر آئیں ، ان میں اصلاح و ترمیم کردی۔ اسی طرح درآمد و برآمد اور کسٹم کے لئے یہ قانون مقرر کیا کہ بیرونی ممالک میں مسلمان تاجروں کے ساتھ جو معاملہ کیا جاتا ہے وہی معاملہ وہاں کے تاجروں کے ساتھ اسلامی سلطنت میں کیا جائے ۔
اجتہاد کا عمل اسلام کی ہزار سالہ تاریخ میں مسلسل جاری رہا ہے۔ مدینہ کی ابتدائی ریاست - ۶۲۲) ایک ایک سادہ عرب ریاست تھی جس میں پیغمبر اسلام نے الہی قانون کو نافذ کیا۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے زمانہ میں جب اطراف کے متمدن ممالک اسلامی ریاست میں شامل ہوئے تو بہت سے نئے نئے مسائل پیدا ہو گئے۔ اس وقت عمر فاروق (۴۴ ق - ۶۳۴) نے اجتہاد سے کام لے کر نئے حالات کے مطابق الہی نظام کو قائم کیا جس کی تفصیل مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵) کی کتاب الفاروق میں دیکھی جاسکتی ہے۔ پھر خلافت عباسیہ کے زمانہ میں جب اسلامی سلطنت کو مزید وسعت ہوئی اور نظام زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہو گیا تو امام ابو یوسف (۱۹ - ۷۸۲) سامنے آئے جو نہ صرف وقت کی سب سے بڑی سلطنت کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے بلکہ موجودہ زمانہ کی اصطلاح میں وزارت قانون کا عہدہ بھی انھیں حاصل تھا۔ انھوں نے الہی قانون کو نئے وسیع تر حالات سے ہم آہنگ کر دیا جس کا ریکارڈ خود ان کی اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے، امن کی یا خوف کی تو اس کو پھیلا دیتے ہیں ، اگر چہ یہ اس کو رسول تک اور اپنے اصحاب تک پہنچات تو اس کو وہ لوگ جان لیتے جو تحقیق کرنے والے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues