Al-Risala · July 1978 · page 38

چند سوالات

الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۳۸

لکھی ہوئی "کتاب الخراج" میں موجود ہے۔ اس بعد انیسویں صدی میں جب دنیا کے حالات میں دوبارہ انقلابی تبدیلیاں ہوئیں تو ترکی کے سلطان عبد العزیز عثمانی (۱۸۶۷-۱۸۷۰) کے حکم سے ماہرین قانون، فقہا اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدہ داروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے وہ مجموعہ قانون مرتب کیا جو مجلۃ الاحکام الشرعیہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس مجلہ میں فقہ اسلامی کے اس حصہ کو، جس کو سول یا دیوانی قانون کہا جاتا ہے، دفعہ وار قوانین کی شکل میں مرتب کیا گیا ہے۔ یہ قانون ۱۹۱۸ تک خلافت عثمانیہ میں رایج رہا اور مصر، سوڈان، شام، حجاز، عراق اور شرق اردن کی عدالتیں اسی کے بموجب فیصلے کرتی رہیں۔ آج بھی اردن اور سعودی عرب میں یہی قانون کسی قدر ترمیم کے ساتھ رایج ہے۔ مجلہ الاحکام الشرعیہ ابتداءََءََ عربی اور ترکی زبانوں میں تیار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس کے ترجمے انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔

اجتہاد کا یہی طریقہ اختیار کر کے آج بھی الہی قانون کو وقت کی ضرورتوں کے مطابق بنایا جا سکتا ہے اور آئندہ بھی بنایا جاتا رہے گا۔

نوٹ: یہ مقالہ مذہب ۔ اخلاق۔ قانون پر ہونے والے بین الاقوامی سیمینار (نئی دہلی ۱۱ - 16 دسمبر ۱۹۷۴) INTERNATIONAL SEMINAR ON RELIGION-MORALITY-LAW کے موقع پر پڑھا گیا۔

🔲 --- مگر ان کے دل مردار سے زیادہ متعفن ہوں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

والذى نفسی بیدہ لا تقوم الساعة حتى اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ قیامت يبعث الله امراء كذبة ووزراء فجرة قائم نہ ہوگی جب تک وہ دور نہ آجاۓ جس میں جھوٹے حکمران، واخوان خونة وعرفاء ظلمة وتراع بڑے وزیر، بد دیانت ملازمین حکومت، ظالم قائدین ظہور فسقة سيماهم سيمى الرهبان وتلوبهم میں نہ آجائیں۔ اس زمانہ میں ایسے فاسق علماء ہوں گے جن انتن من الجييف اهوا ئهم مختلفة کا ظاہر پارساؤں جیسا ہوگا اور ان کے دل مردार से زیادہ فيتيح الله لهم فتنة غبراء مظلمة متعفن ہوں گے۔ ان کی خواہشات ایک دوسرے سے الگ فيتها دكون فيها . ہوں گی۔ اس زمانہ میں اللہ ایک ایسا اندھا فتنہ برپا کریگا جس میں لوگ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues

Printed page