اسلام: دورِ شمشیر کا خاتمہ، دورِ دعوت کا آغاز
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
وہ جہاں کہیں جاتے، خداوند کا ہاتھ ان کی افززت ہی پر لغار رہتا تھا۔ وہ نہ ہایت تنگ آگئے۔ (قضاة ۳: ۱۱ - ۱۶) مصر سے نکلنے کے بعد ۱۴۴۰ ق م کے درمیان تقریباً چالیس سال تک ان کا یہ حال رہا کہ اپنے "گناہ اور ہٹ دھرمی" کے جرم میں وہ صحرائے سینا (دشت فاران سے شرق اردن تک بھٹکتے رہے۔ کیوں کہ ان کے بارے میں خداوند نے کہہ دیا تھا کہ "میں اس سارے خبیث گروہ سے جو میری مخالفت پر جت ہے، ایسا ہی کروں گا۔ اس دشت میں وہ برباد ہو جائیں گے اور یہیں ہلاک ہوں گے۔ (گنتی ۱۳: ۳۳ - ۳۵)۔ ۲۱۷۰ ق م میں اشور کے سخت گیر فرماں روا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے مملکت اسرائیل کا خاتمہ کیا اور ہزاروں یہودی مار ڈالے۔ ۲۷ ہزار سے زیادہ یہودیوں کو ان کے ملک سے نکال کر تتر بتر کر دیا۔ وہ دوبارہ آباد ہوئے تو ۵۸۹ ق م میں بائبل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم پر ترحملہ کر کے یہودی کے بادشاہ کو اپنا قیدی بنالیا۔ دوسری بار، ۵۸۰ ق م میں بخت نصر نے شدید حملہ کیا اور یہودیہ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کو ویران کر ڈالا۔ یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا، بعد کو ان کے حالات بدلے اور انھوں نے دوبارہ اپنے ہیکل کی اور اپنے شہروں کی تعمیر کی۔ مگر ۷۰ ق م میں پھیر ٹیس رومی نے تلوار کے زور پر یروشلم کو فتح کر لیا اور بابل کے بیان کے مطابق ان کے ایک لاکھ ۳۳ ہزار آدمی مار ڈالے۔ ۲۰ ہزار آدمی کو پکڑ کر لے گیا تا کہ ان کو جنگلی جانوروں سے پھڑوائے اور شمشیر زنوں کے کھیل کا تخته مشق بننے کے لئے استعمال کرے۔ یروشلم اور مقدس ہیکل کو بھی اس نے دوبارہ ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا۔
یہود کی دو ہزار سالہ قدیم تاریخ میں اس قسم کے اتارچڑھاؤ کے واقعات بار بار پیش آئے۔ کبھی انھوں نے دنیوی عیش و اقتدار کا لطف اٹھایا، کبھی دنیوی ذلت اور بربادی کا دکھ جھیلا۔ ان کے انبیاء بار بار ان واقعات کو یاد دلا کر انھیں نصیحت کرتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دھیرے دھیرے ان کا ذہن یہ بن گیا کہ خدا کا انعام اور سزا دونوں اسی دنیا میں ملتے ہیں۔ انھوں نے جنت اور جہنم کی دنیوی تعبیر کر ڈالی۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوا۔ کتاب مقدس کی ترتیب میں ان کے یہ خیالات جگہ پانے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب آسمانی کتاب کے نام سے جو کتاب (تورات) ان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اس میں دنیوی جنت اور دنیوی جہنم کی تفصیلات سے تو باب کے باب بھرے ہوئے ہیں مگر آخرت کی جنت اور جہنم کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگر ملتا ہے تو محض اشاراتی شکل میں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہود کا ذہن انتہائی دنیا پرستانہ ہو گیا۔ جب انھوں نے دنیا ہی کو انعامات خداوندی کا مقام سمجھ لیا تو بالکل فطری تھا کہ وہ دنیا کی زندگی کے انتہائی حد تک عاشق ہو جائیں۔ قرآن کے الفاظ میں ان کا یہ حال ہوا: "تم ان یہودیوں کو سب سے زیادہ حیات دنیا کا حریص پاؤ گے ۔ یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی بڑھ کر۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار ہزار برس تک جیتا رہے (بقره - ۹۶) مال کی محبت میں ان کی اکثریت کا یہ ہوا: ”اگر تم ایک دینار بھی ان کے پاس امانت رکھ دو تو وہ اس کو واپس نہ کریں گے۔ الا یہ کہ تم ان کے سر پر سوار ہو جاؤ (آل عمران - ۷۵) ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی دنیا پرستی خالص ’’نظریاتی‘‘ نوعیت کی حامل تھی۔ دنیا کی تمام برائیاں دراصل نفس پرستی کی برائیاں ہیں نہ کہ حقیقتہ نظریاتی برائیاں۔ مگر نفس پرستی کی ہر قسم ابتداً وساؤ
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues