جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
الرسالہ، جولائی ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱
جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے
فریڈرش انگلس نے کہا ہے ۔ ”آدمی کو سب سے پہلے تن ڈھانکنے کو کپڑا اور پیٹ بھرنے کو روٹی چاہیے، اس کے بعد ہی وہ فلسفہ و سیاست کے مسائل پر غور کر سکتا ہے ۔ “ مگر حقیقت یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے جس سوال کا جواب معلوم کرنا چاہتا ہے وہ یہ سوال ہے کہ ” میں کیا ہوں ؟ ۔ یہ کائنات کیا ہے، میری زندگی کیسے شروع ہوتی اور کہاں جا کر ختم ہوگی ۔ ؟ ؟ ؟ “ یہ انسانی فطرت کے بنیادی سوالات ہیں۔ آدمی ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں سب کچھ ہے مگر یہی ایک چیز نہیں۔ سورج اس کو روشنی اور حرارت پہنچاتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیوں انسان کی خدمت میں لگا ہوا ہے۔ ہوا اس کو زندگی بخشتی ہے مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ اس کو پکڑ کر پوچھ سکے کہ تم کون ہو اور کیوں ایسا کر رہی ہو وہ اپنے وجود کو دیکھتا ہے اور نہیں جانتا کہ میں کیا ہوں اور کس لئے اس دنیا میں آگیا ہوں۔ ان سوالات کا جواب متعین کرنے سے انسان کا ذہن قاصر ہے مگر انسان بہر حال ان کو معلوم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سوالات خواہ لفظوں کی شکل میں متعین ہو کر ہر شخص کی زبان پر نہ آئیں مگر وہ انسان کی روح کو بے چین رکھتے ہیں اور کبھی کبھی اس شدت سے ابھرتے ہیں کہ آدمی کو پاگل بنا دیتے ہیں۔ انگلس کو دنیا ایک ملحد
‹ Previous page Next page › Contents of July 1978 All issues