Al-Risala · August 1978 · page 2

روزه

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲

آدمی اگر موت کے دوسری طرف دیکھ لے ـ ایک شخص نے دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات کا مطالعہ کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اس نے ان لوگوں کے حالات کا بھی جائزہ لیا ہے جنہوں نے خودکشی کا اقدام کیا۔ مگر کسی وجہ سے مرنے سے محفوظ رہ گئے ۔ مصنف نے پایا ہے کہ اس قسم کے لوگ عام طور پر اپنی بعد کی زندگی میں نہایت کامیاب رہے ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر جب انھوں نے موت کے بھیانک روپ کو دیکھا تو زندگی ان کو بے حد قیمتی معلوم ہونے لگی۔ انھوں نے نئی لگن اور نئے اعتماد کے ساتھ زندگی کو قبول کر لیا۔ ان کی نا امیدی دوبارہ امید میں تبدیل ہوگئی۔ ”اس سے اچھے تو ہم پہلے ہی تھے ،“ یہ احساس ان کے اندر زندگی اور عمل کی نئی امنگ پیدا کر دیتا ہے ۔ ”موت تو کامل بربادی ہے۔ جب کہ موت سے پہلے ہم اس پوزیشن میں تھے کہ بربادی سے نکلنے کی جدوجہد کر سکیں “ یہ صرف اس ابتدائی تجربہ کا نتیجہ ہے جو جسم سے جان کی علیحدگی کے وقت آدمی پر گزرتا ہے۔ اگر آدمی اس سے آگے بڑھ کر یہ دیکھ لے کہ علیحدگی کی تکمیل (موت) کے بعد آدمی جس دوسرے عالم میں داخل ہوتا ہے، وہاں اس پر کیا کچھ گزرے گا تو اس کی زندگی میں اس سے بھی زیادہ بڑا انقلاب آجائے۔ وہ اپنی زندگی کو تمام تر آخرت کی طرف موڑ دے ۔ وہ ہر دوسرے پہلو کو چھوڑ کر آخرت کے پہلو کو ترجیح دینے لگے۔ آخرت کا معاملہ اتنا سخت ہے کہ آدمی جب اس سے دوچار ہوگا تو ہر وہ چیز اس کو ہلکی معلوم ہوگی جس کی خاطر آج وہ اپنی آخرت کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

روزه

اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے، روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ لے۔ اس قسم کی روزہ داری سے کیا فائدہ حاصل کرنا مقصود ہے ۔

ایک لفظ میں یہ کہ انسانی وجود کا مادی پہلو کمزور ہو اور اس کی روحانیت بڑھے تاکہ عالم قدس سے اس کا اتصال ممکن ہو سکے۔ جسم کی مادی غذا کے مقابلہ میں روزہ کا مقصد روح کو معنوی غذا پہنچانا ہے۔

انسان بیک وقت دو چیزوں کا

مجموعہ ہے۔ ایک مادہ، دوسرے روح، جس کو موجودہ زمانے کے علمائے نفسیات ذہن سے تعبیر کرتے ہیں۔ انسانی وجود کا مادی حصہ اس کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر وہ موجودہ دنیا میں اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتا۔ مگر اس کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کہ اس کی روح یا جدید نفسیاتی اصطلاح میں ذہن، اپنی مجرد حیثیت کو زیادہ سے زیادہ باقی رکھ سکے اور اپنی غیر مادی حیثیت میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرے تاکہ غیر مادی حقائق تک اس کی بے آمیز رسائی ممکن ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page