انسان بیک وقت دو چیزوں کا
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۳
الرسالہ کے پیغام کو پھیلانے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ آپ الرسالہ کی ایجنسی قائم کریں اعظم گڑھ (یوپی) میں ایک ڈگری کالج ہے جس کا نام شبلی نیشنل کالج ہے ۔ ملک زادہ منظور احمد یہاں انگریزی زبان کے شعبہ میں لکچر رتھے ۔ وہ ۱۹۵۳ء سے ۱۹۶۷ تک یہاں استاد رہے ۔ وہ کمیونسٹ تھے دن کو وہ کالج میں انگریزی کا لکچر / لترار / شام کیا تھا۔ اخبار کی پہلی اشاعت پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میری جوتوں کی دکان ہے اور اللہ کے فضل سے کامیاب بھی۔ مگر مجھ کو پسند نہیں آیا کہ میں زندگی بھر چرن سیوک بنارہوں۔ آدمی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سوسائٹی میں معزز مقام حاصل کرے"۔ موجودہ زمانہ میں مسلم قوم کے المیہ کی، کم از کم ایک بڑی وجہ وہی ہے جو مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔ ہمارا ہر آدمی "لیڈر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہے - "ہاکر" کی سطح پر قوم کی خدمت کرنے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ مذکورہ مسلم نوجوان نے سادگی میں اپنے دل کی بات کہہ دی، مگر یہی سارے لوگوں کا حال ہے، کے وقت شہر کے چوراہے پر کھڑے ہو کر پارٹی کا اخبار بیچتے۔ سڑک پر ہاتھ میں اخباروں کا بنڈل لئے ہوئے جب وہ کہتے کہ ” وہ پارٹی کیوں نہ کامیاب ہوگی جس میں میرے جیسا آدمی اخبار بیچے تو سننے والوں پر عجیب تاثر ہوتا۔
اب ایک اور مثال لیجئے ۔ چند ماہ پہلے ایک مسلم نوجوان مجھ سے ملے۔ انھوں نے ایک اسلامی اخبار نکالنا وہ لیڈر اور ایڈیٹر، مقرر اور مصنف بن کر قوم کی خدمت کرنے کے لئے تو بہت بے قرار رہتے ہیں۔ مگر نچلی سطح پر خدمتِ قوم کا ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں۔ اگر چہ ان میں ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو مذکورہ نوجوان کی طرح صاف لفظوں میں اس کا اقرار بھی کر لیں۔
الرسالہ جس تعمیری اور اصلاحی مقصد کے تحت نکالا گیا ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کی اشاعت سفر ابتدا سے شروع ہوتا ہے شروع نہ کہ درمیان سے ہم کو ابتدائی نقطہ سے اپنا سفر شروع کرنا ہے، کوئی شخص اگلی منزل سے اپنے سفر کا آغاز نہیں کر سکتا۔ سفر کا آغاز جب بھی ہوگا وہیں سے ہوگا جہاں آدمی فی الواقع کھڑا ہوا ہے ــــــــ ایک شخص دہلی میں ہے اور بمبئی پہنچنا چاہتا ہے، ایسے شخص کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ دادر سے اپنا سفر شروع کرے ۔ اس کو بہرحال دہلی سے چلنا ہو گا دادر سے سفر شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سفر کبھی شروع ہی نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues