انسان بیک وقت دو چیزوں کا
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۴
زیادہ سے زیادہ بڑھائی جائے ۔ اس سلسلہ میں ہم اپنے مسلم بھائیوں ۔ سے مذکورہ کیونٹ جیسے تعاون کی امید تو نہیں کر سکتے ۔ تاہم اس سے کم تر درجہ کے ایک تعاون کی ہم ان سے اپیل کر رہے ہیں ۔ وہ یہ کہ شخص جو ہم سے ہمدردی یا اتفاق رکھتا ہے ، وہ اپنے مقام پر رسالہ کی ایجنسی قائم کرے ۔
تجربہ یہ ہے کہ بیک وقت سال بھر کا چندہ دینا لوگوں کو مشکل ہوتا ہے ۔ مگر پرچہ سامنے ہو تو ایک پرچہ کی قیمت دے کر وہ بآسانی اسے لے لیتے ہیں ۔ اس صورت حال میں الرسالہ کی تعمیری اور اصلاحی آواز کو پھیلانے کی بہترین صورت یہ ہے کہ ہر ہر جگہ اس کی ایجنسی قائم کی جائے ۔ یہ کم سے کم تعاون ہے جو رسالہ کے ہمدرد الرسالہ کے خیالات کو عام کرنے کے لئے ہمیں دے سکتے ہیں ۔ ایجنسی لینے والے کے لئے اس کام میں کسی نقصان کا سوال نہیں ہے ۔ کیوں کہ شرائط ایجنسی کے مطابق غیر فروخت شدہ پرچے واپس لے لئے جاتے ہیں ۔ بہترین عملی صورت یہ ہے کہ کم تعداد سے ایجنسی شروع کی جائے ابتداءً پانچ یا دس پرچے منگائے جائیں اور پھر حالات کے مطابق بڑھایا جاتا رہے ۔ تعاون کی یہ صورت ملکی بھی ہے اور بے خطر بھی ۔ اگر ہمارے ہمدرد اس پر عمل کریں تو چند سال میں اس کے عظیم نتائج نکل سکتے ہیں ۔ ( وحید الدین )
زندگی بہت دور خلا میں پیدا ہوئی اور پھر وہاں سے زمین پر آئی پچھلے سو برس سے ڈارونی ارتقائی نظریہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں پر حکومت کرتا رہا ہے۔ اس نظریہ کے مطابق زمین پر طبعی حالات کے عمل اور رد عمل سے زندگی پیدا ہوئی اور زمینی حالات میں ارتقا کے مراحل طے کرتی رہی ۔ مگر موجودہ زمانہ میں جو نئی تحقیقات سامنے آئی ہیں، اس نے اس نظریہ کی اعتباریت ختم کر دی ہے۔
اس کی ایک تازہ مثال وہ تحقیق ہے جو پروفیسر چندر وکر ماسنگھی (سری لنکا) اور سر فریڈ مول (برطانیہ) نے مشتر کہ طور پر پیش کی ہے۔ ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان کی دریافت حیاتیات اور فلکیات کے بارہ میں بہت سے مزعومات کو بدل دے گی ۔ دونوں سائنس داں کارڈف یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ انھوں نے برطانیہ کی سائنس ریسرچ کونسل میں درخواست دی تھی کہ ان کو ۷۵۰۰ پونڈ کا عطیہ دیا جائے، تاکہ وہ اس میدان میں اپنی تحقیق کو جاری رکھ سکیں۔ کونسل نے اس درخواست کو رد کر دیا۔ کیوں کہ "ان کا نظریہ ڈارونی اصول کو چیلنج کر رہا ہے"۔
دونوں سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زندگی بہت دور خلا میں کسی دم دار ستارہ پر پیدا ہوئی اور اس کے بعد کسی وقت زمین پر آئی۔ انھوں نے اپنے اس نظریہ کے حق میں مقالات شائع کئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی زمانہ میں شمسی نظام میں جو دم دار ستارے تھے، انھوں نے عظیم تہذیبی مرکز کی حیثیت سے کام کیا۔ یہاں پیچیدہ قسم کے مالیکیول پانی سے ملے، ان کو گرمی ملتی رہی۔ اس طرح ابتدائی زندگی وجود آئی۔ پھر کسی وقت دم دار ستارے کا زمین سے ٹکراؤ ہوا اور اس کے بعد زندگی زمین پر پہنچی۔ ۔ سائنس مذہب کے تخلیقی نظریہ سے کتنی قریب آتی جا رہی ہے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues