Al-Risala · August 1978 · page 6

انسان بیک وقت دو چیزوں کا

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۶

اسلام فرانس کا دوسرا مذہب بن چکا ہے یہ اچنبھے کی بات ہے کہ پچھلے20 برسوں میں اسلام فرانس کا دوسرا سب سے زیادہ اہم مذہب بن گیا ہے ۔ وہ صرف رومن مسیحیت کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ پروٹسٹنٹ مسیحیت سے وہ بہت آگے ہے۔ فرانس کے ۷ اصوبائی مرکزوں میں مستقل اماموں کے ساتھ مساجد قائم ہیں ۔ رومن کیتھولک چرچ اکثر تین چوتھائی خالی رہتے ہیں مگر پیرس کی مسجد میں جمعہ کی نمازوں میں پانچ ہزار سے چھ ہزار تک آدمی جمع ہو جاتے ہیں ۔ وہ آنگن اور ملحقہ کمروں تک بھرے ہوتے ہیں تاکہ نماز اور خطبہ کو لاؤڈ اسپیکر پر سن سکیں ۔

عید الفطر کا تہوار جو رمضان کے ختم پر ہوتا ہے ، اس میں نمازیوں کا اجتماع گیارہ ہزار تک پہنچ جاتا ہے ۔ مسجد کے چاروں طرف سڑکوں پر لوگ جھکے ہوئے عبادت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اندازہ ہے کہ فرانس میں ۳ ملین عامل کیتھولک ہیں، بمقابلہ پتہ لینے والے کیتھولک کے کہ ان کی تعداد زیادہ ہے۔ مسلمان دوسرے نمبر پر ہیں جن کی تعداد تقریباً دوملین ہے۔ اس کے بعد پروٹسٹنٹ ہیں جن کی تعداد ۱۲۵۰۰۰۰ ہے۔ یہودیوں کی تعداد نو لاکھ ہے اور بدھسٹ کی تعداد ۸۰ ہزار ہے۔

۱۹۳۹ء سے پہلے مسلم آبادی فرانس میں اتنی کم تھی کہ ان کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہ تھے۔ مگر دوسری عالمی جنگ کے بعد مسلم آبادی بڑھنا شروع ہوئی ۔ بہت سے مسلم خاندان فرانس میں آباد ہو گئے ، خاص طور پر شمالی افریقہ کے فرانسیسی مقبوضات کے بعض اوقات ان کو خوف وہراس کی حالت میں رہنا پڑتا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page