انسان بیک وقت دو چیزوں کا
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۷
جس نے اسلامی ملکوں کو اپنی نو آبادی بنانا چاہا تھا ، وہ اب خود اسلام کی نو آبادی ہو رہا ہے ۔
۱۹۵۴ء کے بعد مہاجرین کی سیلاب بہت تیزی سے بڑھا۔ یہ سلسلہ ۱۹۶۱ء تک جاری رہا۔ شمالی افریقہ سے آنے والے مسلم خاندانوں کے علاوہ مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد سیاہ افریقہ سے بھی فرانس میں داخل ہوئی۔ اب فرانس کے مسلمان زیادہ تر مزدور طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ... ۲۵ پیرس کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ مارسیلز میں ... ۵۰۷ مسلمان ہیں اور لیونش میں ... ۳۰,۰۰ ان میں سے کچھ پروفیسر ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو لکھ پڑھ نہیں سکتے۔ واحد چیز جو ان میں مشترک ہے وہ اسلام کا عقیدہ ہے۔
حمزہ ابو بکر پیرس کی مسجد کے مسلم انسٹی ٹیوٹ کے ریکٹر ہیں۔ مسلمانوں کے اس مختلف النوع طبقہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا: "میں نے محسوس کیا کہ میں ان لوگوں کے مذہبی اختلافات کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس کے بجائے مجھے چاہئے کہ سب کو مشترک روحانی خورایک دینے کی کوشش کروں جو کسی ایک کے فرقہ وارانہ مزاج سے آزاد ہو۔
ان کے سامنے بہت سے مادی مسائل بھی ہیں۔
رہائش ، روزگار، تعلیم اور فرانس کے معاشرہ سے موافقت ۔ عورتیں جن کے اوپر خاندانی ڈھانچہ قائم ہوتا ہے، وہ ابتداء اپنے کو اک قسم کا لسانی قید میں پاتی ہیں۔ حسن ابو بکر کے کمرہ کی دیوار پر شاہ ایران کی ایک تصویر ہے۔ شاہ کی حکومت پہلی حکومت تھی جس نے مادی طور پر میری مدد کی انھوں نے کہا" انھوں نے مجھ کو مسجد کے لئے قالین اور پیسہ دیا"
فرانس کے مسلمانوں کی ۵۰ تعداد مذہبی فرائض ادا کرتی ہے۔ "عبادت کے لئے سماجی دباؤ یہاں اتنا زیادہ نہیں جتنا ایک مسلم ملک میں ہوتا ہے اور حالات زیادہ موافق نہیں ہیں۔ " حسن ابو بکر نے کہا "مگر بہت سے مسلم مزدور رمضان کے روزے رکھتے ہیں حتی کہ پورے مہینے تک کے۔ "
ہماں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا این ج است "سر! ایک بات کہوں برا نہ مانے گا"، کالج کے طالب علم نے کہا "میں آج کل قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں۔ جہاں سے بھی کھول کر پڑھتا ہوں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہی سورہ پڑھ رہا ہوں۔ قرآن میں ہر جگہ آخرت اور جنت اور جہنم ہی کی باتیں ہیں۔ "
ایک سادہ ذہن کے طالب علم کو جو بات قرآن میں اتنی زیادہ نظر آئی وہ بڑے بڑے اہل علم کو اس میں دکھائی نہیں دیتی۔ ان کا کہنا ہے کہ قرآن کی سب سے بڑی تعلیم یہ ہے کہ سیاست الہیہ کا جھنڈا اٹھاؤ اور تمام قوموں سے لڑ کر اسلام کی حکومت قائم کرو۔ حالاں کہ سارے قرآن میں کہیں بھی اس قسم کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ جو بات قرآن میں لکھی ہوئی نہیں ہے، وہی لوگوں کے لئے سب سے اہم بات بن گئی ہے : ہماں ورق کہ سیہ گشتہ مدعا این ج است ہہ ہما ابتداء اپنے دایک مں سناں یدیں پاں ہیں وہ خارجی دنیا سے ربط قائم نہیں کر پاتیں۔ صر یہ صفحہ مذراہ میں جاتا ہے
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues