Al-Risala · August 1978 · page 8

انسان بیک وقت دو چیزوں کا

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۸

زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں کہا جاتا ہے کہ جاپانی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ ہیں جو کام کے مفہوم کو بتاتے ہیں۔ مگر ابھی حال تک جاپانی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہ تھا جو ”فرصت“ کے مفہوم کو ادا کرتا ہو۔ غالباً یہ واحد عامل ہے جس نے جاپانی قوم کو دنیا میں سب سے زیادہ محنتی قوم بنا دیا ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی اقتصادیات بالکل برباد ہوگئی تھیں۔ مگر جاپانی محنت نے معجزہ دکھایا۔ جنگ کے صرف ۲۵ سال بعد جاپان نے اقتصادی حیثیت سے دنیا کے چند انتہائی ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں جگہ حاصل کرلی۔ مسلمانوں کا معاملہ ایک اور پہلو سے دل چسپ مثال پیش کرتا ہے ۔ ہماری زبان میں اختلاف اور ٹکراؤ کے مفہوم کو بتانے کے لئے درجنوں الفاظ ہیں ــ مگر کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ADJUSTMENT لئے کوئی لفظ نہیں ۔

پچھلے دو سو برس سے ہندوستانی مسلمانوں پر احتجاج اور ٹکراؤ کی سیاست اتنی زیادہ چھائی رہی ہے کہ اردو زبان میں اُس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے کوئی لفظ ہی بن سکا جس کو انگریزی میں ADJUSTMENT کہا جاتا ہے۔ ’’با زمانہ ستیز کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ہمارے یہاں درجنوں الفاظ ہیں ۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ کے مفہوم کو صحیح طور پر ادا کرنے کے ADJUSTMENT ہمارے یہاں کوئی ایک لفظ بھی نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان آج سب سے زیادہ لڑنے جھگڑنے والی قوم بن گئے ہیں ۔ حالات سے ہم آہنگی کرتے ہوئے اپنا راستہ نکالنا جیسے ان کو آتا ہی نہیں۔ ان کی جنگ جویانہ تحریکوں کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا انھیں خبر ہی نہیں کہ زندگی کا راز ایڈ جسٹمنٹ میں ہے نہ کہ مقابلہ آرائی میں ۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں ایک عجیب مشکل یہ پیدا ہوئی ہے کہ کوئی خدا کا بندہ اگر یہ کہتا ہے کہ ملی مقاصد کے حصول کے لئے بنو منصوبَہ بناؤ ، حالات سے ہم آہنگ ہو کر بناؤ تو یہ بات ان کی سمجھ میں آتی ہی نہیں۔ اس قسم کی آواز حقیقتاً ایڈ جسٹمنٹ کی آواز ہوتی ہے مگر سننے والے اس کو ”چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی“ کے معنی سمجھ لیتے ہیں ۔ کیوں کہ جن الفاظ سے وہ مانوس ہیں انھوں نے ان کو وہی مفہوم سے آشنا کیا ہے : زمانہ سے لڑنا یا ہوا کے رخ پر چلنا۔ ان دو کے علاوہ کسی تیسرے رویہ کو وہ جانتے ہی نہیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page