Al-Risala · August 1978 · page 9

مراسلات

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۹

مراسلات

الرساله کو میں شوق سے پڑھتا ہوں مگر ہر پرچہ میں کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوتی ہے جو طرز تعمیر کی وجہ سے میرے ذوق پر کچھ بار ہوتی ہے اور اس میں کئی کئی جگہ کھٹک پیدا ہوتی ہے، مثلاً مئی کے پرچہ میں سرورق آپ کا ملفوظ ”ہمارے تمام قائدین کا انداز قائدین کو اپنی کوتاہی پر متوجہ نہیں کر سکتا البتہ آپ کی دوسری باتوں کی طرح اسے بھی ناقابل توجہ ضرور بنا دے گا، نعرے، پوسٹر، جلسے، کانفرنس، خطابت ان میں کتنی چیزیں جس کو آپ نے شجر ممنوعہ بنا رکھا ہے اور صحافت کو بھی شامل کر لیجئے ۔ تو پھر یہ کہوں گا کہ آپ صحافت کے ذریعہ نعرہ لگائیں، پوسٹر نکالیں جلسے اور کانفرنسوں کی روداد لکھیں تو صحیح اور دوسرے لوگ بھی یہی کریں تو کاٹھ کی ہنڈیا ہو جائے، تازہ پرچہ کی یہ عبارت ” دعوت دین“ جو دراصل بندوں کے ساتھ خیر خواہی کا اظہار ہے وہ تحریر و تقریر ........ وغیرہ ۔ کیا خیر خواہی کے اظہار کے لئے تقریر و تحریر بھی نہ ہونی چاہئے آخر آپ کون سی آسمانی آواز کو استعمال کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے من قال هلك الناس فهلك الناس فهو اهلكهم اور دوسری حدیث میں ہے کہ آدمی دوسروں میں عیب نکالتا رہتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک عیب میں مبتلا کر اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، جب آپ اس طرح کی بات لکھتے ہیں تو مجھے اس خیر خواہی کی بنا پر جو آپ کے ساتھ ہے ڈر لگنے لگتا ہے کہ آپ خود ان باتوں میں گرفتار نہ ہو جائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کو خود اپنے گھریلو ماحول سے بھی کچھ سبق ضرور حاصل کرنا چاہئے کیا ” انبیا کی آواز کا یہی نتیجہ ہوتا ہے، معاف کیجئے گا آپ حسن النبا وغیرہ کے بارے میں یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ لوگ شہادت کا ٹائٹل لے کر شاندار قبروں میں لیٹ گئے وہ بے چارے تو اب تک گورِ غریباں میں پڑے ہوئے ہیں۔ آپ تو زبانی (s) لکھ دیتے ہیں انھوں نے غُلاما (s) کے بعد بھی لکھ دیا ہے ۔

سودا قمار عشق میں خسرو سے کوہکن بازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا بہرحال میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ یہ انداز چھوڑ دیں اگر کسی آدمی پر آپ کو تنقید کرنی ہے تو بالکل نام لے کر دلیل سے لکھئے مگر عمومی نشتر زنی اچھی چیز نہیں ہے۔

ابھی ابھی جون کا پرچہ ملا ہے اس میں بہت سی عمدہ باتوں کے ساتھ بعض باتیں انتہائی قابل اعتراض ہیں ۔ آپ امت میں اتفاق پیدا کرنا چاہتے ہیں مگر بات اختلاف کی کرتے ہیں۔ آپ ان فقہی مسلکی اور ذوقی اختلافات کو دور نہیں کر سکتے البتہ اس میں نقطہ اعتدال پیدا کر سکتے ہیں اور پیار و محبت کے انداز سے یہی کرنا چاہئے۔ ممکن ہے کہ اس تیز اور غیر ادب شناس انداز سے آپ کے نفس کو اور کچھ آپ کے نادان مداحوں کو تسکین ہو سکتی ہو اور وہ اسے انبیار کی آواز بتائیں مگر امت میں جو فکر آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ اس سے نہیں پیدا ہوگا۔

جہاد اصغر اور جہاد اکبر میں جو توازن صحابہ کرام کی زندگی میں بھی تھا وہ بعد میں نہیں رہ گیا۔ کچھ لوگ جہاد اصغر یعنی امت کے وقتی اور ہنگامی کاموں میں پڑے رہے اور کچھ لوگ جہاد اکبر کی انتہا پر رہے اور آج تک ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page