مراسلات
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۰
آپ کی تحریروں میں اعتدال ہونا چاہئے ۔ آپ وعظ تو اعتدال کا کرتے ہیں مگر آپ جہاور اصغر کو بالکل شجر ممنوعہ قرار دینے کے درپے ہیں حتی کہ اب چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی کا وعظ کہتے ہیں اور غلام احمد قادیانی کی تحریک کو سراہتے ہیں اور ایک زمانہ میں آپ لکھ چکے ہیں کہ ہندوستان کو سمجھنے کے لئے سنجے اور اندرا کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک طرف آپ دین میں سادگی کی بات کرتے ہیں اد فقہ اور فنی علوم پر تنقید کرتے ہیں مگر دوسری طرف موجودہ دور کے علوم کے حصول کو سب سے بڑا کام دین سمجھتے ہیں اور اسی پر اپنے پورے ماحول کے ساتھ کار بند ہیں۔ آپ دوسروں کو جو چاہیں لکھ دیں مگر خود اپنے بارے میں کوئی بات انتہائی گراں گزرتی ہے جس کا اظہار نہ ناقدین کے بارے میں) آپ نے پچھلے خط میں قسی القلب کے لفظ سے کیا ہے۔
قرآن وسنت کی روشنی میں محقق صوفیانے جو " کورس" مقرر کیا وہ عوام کے لئے ہے خواص کے لئے نہیں ذکر میں شخصیت کے گھٹنے کی کیفیت اخص الخواص میں پیدا ہو سکتی ہے عوام کی ذہنی سطح کو اس پر لانا نہ تو آپ کے بس کی بات ہے نہ اور کسی کے ، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرق کو ملحوظ رکھا ہے۔
اس سے پہلے کے بزرگ اگر لفظی ورزش میں مبتلا تھے تو آپ قلمی ورزش میں مبتلا ہیں میں کہاں تک لکھوں اگر میرا بس چلتا تو آپ کی تحریروں کے ایک ایک ٹکڑے کے بارے میں لکھتا کہ آپ کو اپنی صحیح بات “ کہنے کے لئے انداز یہ اختیار کرنا چاہئے۔ ۔
شاید میرے خط سے آپ کو ناگواری ہو مگر میں آپ کا بد خواہ نہیں ہوں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ کی تحریریں مقبول ہوں اور خدا نے آپ کو جو صلاحیت دی ہے وہ پا در ہوا ہو کر نہ رہ جائے جیسا کہ ابو الکلام اور عنایت اللہ مشرقی وغیرہ کی تحریروں کے ساتھ ہو چکا ہے، میرا مقصد یہ ہے کہ امت کے سارے کاموں پر خطِ نسخ پھیرنے کے بجائے اس کے مفید پہلو سے کام لیا جائے۔
جب سے ”الرسالہ“ نکلا ہے اس میں آخرت طلبی کے بار بار اظہار کے باوجود مجھے انتہائی خود نمائی کا مظاہر نظر آتا ہے آخرت طلب انسان کی تواضع اور فنائیت نظر نہیں آتی۔
آپ یہ بات نوٹ کر لیں کہ دین سے محبت اور چیز ہے اور دین میں غلو اور چیز ہے۔ اس زمانہ میں سب سے بڑا غلو یہ ہے کہ امت کے عام (عوام نہیں) آدمیوں کو انبیاء کے معیار پر رکھ کر اور ان کے حسن وقبح کا فیصلہ کیا جائے دوسرے ان کی خوبیوں سے کام لینے کے بجائے ان کو بالکل یکوناتھابت کیا جائے۔
زبانی یا کاغذ کے اوپر فاران کی چوٹی جیسا وعظ کہنا آسان ہے مگر عملی طور پر آپ کوئی چھوٹا سا کام بھی کریں تو آپ کو معیاری اور روایتی فرق معلوم ہو جائے گا اور شاید لیڈری اور بزرگی کی دوکان لگانے والوں کی کچھ اہمیت آپ کے ذہن میں بیٹھ جائے ، میں بحث کر کے آپ کو منوا نہیں سکتا اور نہ ضرورت ہے اور دل سے غلاف اٹھانے کی صلاحیت بھی اپنے اندر نہیں پاتا۔ نئے مداحوں کے ہجوم میں میری یہ سخت تنقید آپ کو اچھی نہیں لگے گی مگر اتنا لکھنا ضروری سمجھتا ہوں اور اپنی تلخ نوائی کی معافی مانگتے ہوئے اپنا خط ختم کرتا ہوں ۔ (مولانا) مجیب اللہ ندوی ۔ رشاد نگر ۔ اعظم گڑھ ۲ رجب ۱۳۹۸ (۹ جون ۱۹۷۸ء)
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues