Al-Risala · August 1978 · page 11

مراسلات

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۱

ا - ہم تقريری مظاہروں کے خلاف ہیں نہ کہ نصیحت کے۔ ملت کے مسائل پر ” احتجاجی کانفرنس “ کرنا تقريری مظاہرہ ہے۔ جبکہ افراد قوم کے اندر تعمیری اور دینی مزاج پیدا کرنے کی کوشش کرنا نصیحت ہے۔

۲- عیب نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو لے کر اس کی شخصیت کو مجروح کیا جائے۔ مگر الرسالہ میں اساسی امور پر تنقید ہوتی ہے۔ پہلی قسم کی تنقید بلا شبہ غیر مطلوب ہے ۔ جب کہ دوسری قسم کی تنقید عین مطلوب ۔

۳- موجودہ زمانہ کی انقلابی تحریکوں پر ہماری تنقید یہ ہے کہ اسلامی تحریک کو عملاً انھوں نے سیاسی تحریک بنا دیا۔ اور اسلامی تحریک کی یہ تصویر یقیناً خدا کے دین میں اجنبی ہے۔

۴۔ یہ صحیح نہیں ہے کہ ہم سیاست کو شجر ممنوعہ قرار دیتے ہیں۔ ہمارا کہنا صرف یہ ہے کہ اجتماعی استحکام سے پہلے عملی سیاست میں کودنا صرف طاقت کے ضیاع کے ہم معنے ہے ۔

۵- قادیانی تحریک کو سراہنے کی بات سراسر خلاف واقعہ ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ اپنے آغاز میں باعتبار طریق کار اس کے اندر ایک صحیح رہنمائی تھی۔ وہ یہ کہ انگریز سے سیاسی تصادم نہ کرتے ہوئے غیر مسلموں اور خود انگریزوں میں دعوتی کام کیا جائے ۔ ہم کو نہیں معلوم کہ اس طریق کار نہ کہ موجودہ قادیانیت) کی درستگی کے خلاف کون سی عقلی یا نقلی دلیل قائم کی جاسکتی ہے ۔

۶- " موجودہ دور کے علوم کے حصول کو سب سے مرا دی ۴ ، ہم نے کب قرار دیا ہے۔ ہم نے جو کچھ کہا ہے وہ صرف یہ کہ وہ جدید دریافتیں جو اسلامی معتقدات کی تائید کرتی ہیں ، ہم کو چاہیے کہ ہم انہیں جانیں اور ان کے ذریعہ اسلام کو مدلل کریں۔ دوسری چیز جس کو اپنانے پر ہم نے زور دیا ہے وہ عصری اسلوبِ کلام (سائنٹفک اسٹائل) ہے۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد حقیقت نگاری کا اسلوب ہے ، بمقابلہ خطیبانہ یا شاعرانہ یا بیانیہ اسلوب کے ۔ ۷۔ اسلامی تربیت میں عوام و خواص کی تقسیم بلا شبہ درست ہے ۔ مگر اس تقسیم کو اسی حد تک محدود رہنا چاہئے جس کا نمونہ سنت رسول میں موجود ہے، بطور خود کسی کے لئے کوئی عبادتی طریقہ وضع کرنا بلا شبہ بدعت ہے خواہ وہ ایجاد ہو یا استنباط ۔

۸۔ ہمارے نزدیک یہ کوئی صحیح اسلامی طریقہ نہیں ہے کہ آدمی ’’شاعر اسلام" بن جائے اور ایسی تقریریں کرے جس سے ہر مذاق کے لوگ خوش رہیں۔ سچی بات کہہ کر غیر مقبول ہو جانا اس سے بہتر ہے کہ عام پسند باتیں کہہ کر عوامی مقبولیت حاصل کی جائے ۔

۹۔ الرسالہ کی تنقیدوں کو "نشتر زنی کہنا انصاف کے خلاف ہے۔ الرسالہ میں ہمیشہ علمی اسلوب میں مسائل کا تجزیہ کیا جاتا ہے ، نشتر زنی کو ہم کمینہ پن سمجھتے ہیں جبکہ تجزیاتی تنقید اعلیٰ ترین دینی و ملی ضرورت ہے ۔

۱۰۔ "تسکینِ نفس "، اور " انتہائی خودنمائی" کا مظاہرہ " وغیرہ کے متعلق صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ حدو د تنقید سے با ہر قدم رکھنا ہے۔ یہ نیت کو زیر بحث لانے کی بات ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ آدمی صرف یہ کر سکتا ہے کہ خارجی حقائق کو دیکھے اور دلیل کی زبان

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page