Al-Risala · August 1978 · page 13

خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۳

ایسے دین کو پکڑ رکھا تھا جس کی بابت انھیں خود یہ شبہ تھا کہ کتاب وسنت کے کافی دلائل اس کے حق میں موجود نہوں ہیں اور اُس پیغام کی طرف سے انھوں نے آنکھیں بند کر لیں جو واضح دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے آگیا تھا۔ ایسے واضح دلائل جن کی بابت وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر انھوں نے ان کو اپنے ذہن میں داخل ہونے دیا تو وہ اُن کے "عقائد" کو متزلزل کر دیں گے۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ خدا کی خدائی کا حیرت ناک کمتر اندازہ کر رہے ہیں۔

خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ

بعض اسلامی حلقے اپنے افراد کو منع کر رہے ہیں کہ وہ الرسالہ کا مطالعہ نہ کریں۔ ایسا کر کے وہ دراصل اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ الرسالہ کے دلائل کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔ ان لوگوں کا تصور خدا بھی کیسا عجیب ہوگا جو اپنے اندر اس بات کی ہمت پاتے ہیں کہ وہ عالم الغیب کا سامنا اس حال میں کریں کہ انھوں نے ایک ۱۹۷۷ء میں ہندوستان میں مختلف سیاسی پارٹیوں نے مل کر جنتا پارٹی بنائی۔ اسی زمانہ میں پاکستان میں نو سیاسی پارٹیوں نے مل کر "پاکستان قومی اتحاد" قائم کیا۔ اول الذکر کا مقصد مسز اندرا گاندھی کو اقتدار سے ہٹانا تھا اور ثانی الذکر کا مقصد مسٹر بھٹو کو۔ جب تک اپنے سیاسی حریف کو ہٹانے کا سوال تھا، دونوں ملکوں کی جماعتیں باہم متحد رہیں۔ مگر جب یہ مرحلہ طے ہو گیا تو اب دونوں ملکوں کا سیاسی اتحاد، اختلاف انتشار کا شکار ہو رہا ہے منفی نعرہ انھیں متحد کر سکتا تھا۔ مگر مثبت مقصد ان کو متحد کرنے میں ناکام رہا۔

مختلف سیاسی چہروں کے ملنے سے اتحاد کی جو بڑی چھتری بنی تھی وہ پارہ پارہ ہورہی ہے کیوں کہ ہر ایک اپنی اپنی چھتری کو الگ کر کے اس کے سامیہ میں کھڑا ہونا چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page