Al-Risala · August 1978 · page 14

خدا کی خدائی کا کم تر اندازہ

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۴

عورت اور مرد کا فرق حیاتیاتی بناوٹ میں فرق کا نتیجہ ہے نہ کہ محض سماجی اسباب کا عورتوں کو مساوی مواقع دیئے جانے کے ایک پر جوش حامی کی حیثیت سے میں مسلسل طور پر ان کی تخلیقی صلاحیت کے بارے میں شبہ کا شکار رہا ہوں ۔ ایسا کیوں ہے کہ عورتوں نے اعلیٰ درجہ کے ادیب ، شاعر ، آرٹسٹ اتنی کم تعداد میں پیدا کئے ۔ ایسا کیوں ہے کہ ان شعبوں میں بھی جو روایتی طور پر عورتوں کے شعبے سمجھے جاتے ہیں، مثلاً طباشی اور لباس سازی، وہ مردوں کے مقابلہ میں دوسرے درجہ پر ہیں ۔ تمام مشہور طباخ اور لباس ساز (حتیٰ کہ عورتوں کے لباس کے بھی) مرد ہی ہیں۔

اب تک میں سماجی علماء کے اس نقطہ نظر کو مانتا رہا ہوں کہ یہ روایت اور ماحول ہے جس نے ان کے خلاف کام کیا ہے۔ مگر سماجی توجیہہ سے مجھے پورا اطمینان نہ ہو سکا۔ میں محسوس کرتا رہا کہ ماحول یا مواقع کے فقدان کے علاوہ بھی کچھ اسباب ہیں جنھوں نے عورتوں کو مردوں سے پیچھے کر رکھا ہے۔

پروفیسر آئی سنگ جنھوں نے ذہانت کا حسابی پیمانہ ایجاد کیا ہے، اور جن کا کہنا ہے کہ کالے اور سانولے رنگ کی نسلیں، سفید فام نسلوں کے مقابلہ میں کم تر ذہانت رکھتی ہیں، اب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہی بات عورتوں کے لئے بھی صحیح ہے۔ ان کے جین دراصل ان کو بناتے ہیں۔ حمل کے وقت ہی سے ان کا زنانہ پن اسی طرح متعین اور مقرر ہوتا ہے جس طرح کسی کمپیوٹر میں ۔ علمائے سماجیات کے دعویٰ کے برعکس، یہ روایت اور ماحول کا اثر نہیں ہے کہ ایک چھوٹی بچی گڑیوں کے کھیلنے کا شوق رکھتی ہے اور ایک چھوٹا بچہ سپاہی کی صورت والے کھلونے سے کھیلتا ہے۔ یہ حیاتیاتی بناوٹ کا اثر ہے۔ حتیٰ کہ ایک لڑکی جب کہ ابھی وہ رحم مادر میں ہوتی ہے وہ لڑکے کے مقابلہ میں زیادہ کشادہ پیٹ بنانے

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page