Al-Risala · August 1978 · page 15

موت کے دوسری طرف

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

لگتی ہے۔ پیرو جتنا زیادہ کشادہ ہوگا، اتنا ہی اس میں زنانہ پن زیادہ ہوگا۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ جن مردوں کے پیرو چوڑے ہوتے ہیں ان میں زنانہ پن ، انفعالیت ، حتیٰ کہ ہم جنسی کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح جن عورتوں کے پیرو کم چوڑے ہوتے ہیں ان میں مردانہ اوصاف جارحیت اور ہم جنسی کے رجحانات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات اتنے قطعی ہیں کہ کوئی بھی شخص اپنے قریبی لوگوں کا جائزہ لے کر ان کی تصدیق کر سکتا ہے۔

آئی سنگھ اس سے پہلے نسلی مساوات کے حامیوں کا نشانہ تنقید رہا ہے ۔ اب مساوات نسواں کے حامیوں نے بھی اس کے خلاف قلم اٹھا لیا ہے اور اس پر سخت تنقیدیں کی جارہی ہیں خشونت سنگھ

موت کے دوسری طرف

ہو شخص پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو موت کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے گا۔ اس کے پیچھے وہ دنیا ہو گی جس کو وہ چھوڑ چکا۔ جس میں اب وہ واپس نہیں جا سکتا۔ اور سامنے وہ عالم ہو گا جس میں اب اسے داخل ہونا ہے۔ جس میں داخلہ سے وہ اپنے آپ کو روک نہیں سکتا۔ یہ فیصلہ کن روز ہر آدمی کی طرف دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس دن حیرت انگیز طور پر آدمی دیکھے گا کہ وہ اپنی اصلی صورت میں بے نقاب کر دیا گیا ہے۔

قیامت کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے یوم یکشف عن ساق (جب پنڈلی کھولی جائے گی) عوفی نے اس آیت کی تشریح میں عبداللہ بن عباس کا یہ قول نقل کیا ہے: حین یکشف الامر و تبدلا اعمال (ابن کثیر) جب معاملہ کھل جائے گا اور اعمال ظاہر ہو جائیں گے۔ دنیا میں ہر آدمی اپنے آپ کو ایک مصنوعی خول میں چھپائے ہوئے ہے۔ وہ اپنے ہر عمل کے اوپر خوبصورت الفاظ کا ایک پردہ ڈال لیتا ہے۔ آخرت میں یہ چیزیں ہٹ جائیں گی۔ ہر آدمی اپنی حقیقی صورت میں سامنے آجائے گا۔

دنیا میں یہ ممکن ہے کہ ایک آدمی جو حقیقتاً خود پرست ہر وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرے ۔ اس کو اپنے جاہ و مرتبہ سے دل چسپی ہو مگر دنیا کے سامنے وہ اپنے کو اس انداز میں پیش کرے ، گویا وہ حق کا علم بردار ہے ، ذاتی مصلحتیں اور ذاتی مفادات اس کی سرگرمیوں کا مرکز و محور ہوں مگر اپنی تقریر و تحریر سے وہ لوگوں پر ایسا جادو کرے کہ لوگ اس کو مجاہد اعظم سمجھنے لگیں مگر موت انسانی زندگی کا وہ واقعہ ہے جو اس قسم کی تمام چیزوں کو باطل کر دیتا ہے۔ موت کے بعد آدمی جس دنیا میں پہنچتا ہے، وہاں اچانک اس قسم کے تمام لبادے اس کے اوپر سے اتر جاتے ہیں۔ وہ اپنی حقیقی اور اصلی صورت میں سامنے آجاتا ہے، اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی۔

o تین ڈالر کے سو ڈالر ایک بیرل تیل جو خلیج فارس میں تین ڈالر کا خریدا جاتا ہے۔ وہ یورپ میں صارد کو ۴۵ ڈالر میں بیچا جاتا ہے اور کیمیائی مصنوعات کی صورت اختیار کرنے کے بعد اس کی قیمت سو ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page