Al-Risala · August 1978 · page 4

دین کیا ہے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۴

” ایمان “ میں شمار کیا گیا ہے جن کے تعلق بظاہر عمل سے ہے ۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے ، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے ، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ کلمہ کا اقرار اگر ایک سنجیدہ فیصلے کے طور پر ظہور میں آئے تو وہ آدمی کی پوری زندگی میں روح بن کر شامل ہو جائے گا۔ بصورت دیگر اس کی حیثیت ایک ایسے لفظی ضمیمہ کی ہوگی جس کا آدمی کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس اقرار کے بعد سب سے پہلا فریضہ نماز ہے۔ نماز اسلام کی سب سے اہم عبادت ہے ۔ اللہ نے اپنے بندوں پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں ۔ ہر نماز سے پہلے ہاتھ منہ اور پاؤں دھوئے جاتے ہیں جس کو وضو کہتے ہیں ۔ نماز میں مختلف آداب اور کلمات اور دعاؤں کو ادا کرتے ہوئے بندہ اپنے مالک کے آگے جھکتا ہے۔ حتی کہ اپنا سر زمین پر رکھ دیتا ہے۔ وہ خدا کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنے چھوٹے ہونے کا اقرار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ اپنی بندگی کا تعلق کو جوڑتا ہے۔ قیام اور رکوع اور سجدہ گویا خدائی کے سامنے اپنی بندگی کا عملی اعتراف ہے۔ اس طرح بندہ اپنے آپ کو اس مقام عبدیت پر لے جاتا ہے جہاں اس کا خدا اس سے ملاقات کر سکے۔ بندہ اپنے رب کو عجز کی سطح پر پاتا ہے نہ کہ کبر اور انانیت کی سطح پر۔

روزہ سال میں ایک مہینہ کے لئے ماہ رمضان میں فرض کیا گیا ہے۔ روزہ کا وقت ابتدائے سحر سے شروع ہوتا ہے اور سورج ڈوبنے تک رہتا ہے ۔ اس دوران میں کھانا پینا مطلق چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ قرآن کے مطابق روزہ اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ بندہ کے اندر تقوی اور شکر بقرہ) کی کیفیت پیدا ہو۔ کھانا اور پانی آدمی کی سب سے بڑی ضرورتیں ہیں۔ جب پیاس سے آدمی کا حلق سوکھ جاتا ہے ۔ جب بھوک سے آدمی کا سینہ کھرچنے لگتا ہے اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنا کمزور ہے اور خدا کی مدد کا کتنا زیادہ محتاج ہے۔ یہ تجربہ اس کو اللہ کی عظمت اور اس کے مقابلہ میں اپنے عجز کا احساس دلاتا ہے جو کہ تقوی کا حاصل ہے۔ پھر شام کو جب وہ کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے تو وہ اس بات کا تجربہ کرتا ہے کہ اس کے خدا نے کتنی مکمل صورت میں اس کی ضرورتوں کا انتظام کر رکھا ہے ۔ اس کا دل احسان مندی کے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ اس کی زبان پر حمد اور شکر کے کلمات جاری ہو جاتے ہیں ۔

زکوٰۃ مال اور پیداوار میں خدا کا حق ہے۔ ہم دنیا میں جو کچھ کماتے ہیں خواہ وہ مویشی اور زمین کے ذریعہ ہو یا کارخانہ اور دکان کے ذریعہ یا ملازمت اور مزدوری کے ذریعہ اس میں " ہمارا " حصہ بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ ہمارے اندرونی نظام سے لے کر کائنات تک بے شمار اسباب جب ہماری موافقت میں اکٹھا ہوتے ہیں تب ہم کوئی کمائی کر پاتے ہیں۔ یہ اسباب براہ راست مالک ارض و سما کی طرف سے فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ سال کے آخر میں جب ہم اپنی کمائیوں کا حساب کریں تو اس کا ایک حصہ خدا کی راہ میں نکال کر اس واقعہ کا اعتراف کریں کہ یہ سب کچھ کو خدا کی طرف سے ملا ہے ۔ اگر وہ ہماری مدد پر نہ ہوتا تو ہم کسی قسم کی کوئی کمائی نہیں کر سکتے تھے۔ زکوۃ یا انفاق دراصل خلق کی اس اعلی کیفیت کا مظہر ہے جب کہ بندہ بے قرار ہو کر چاہنے لگتا ہے کہ اپنے آقا کے سامنے اپنے آپ کو خالی کر دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page