Al-Risala · August 1978 · page 5

دین کیا ہے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۵

اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اہلِ ایمان جب کسی کو دے رہے ہوتے ہیں تو ان کی زبان حال پکار رہی ہوتی ہے: تم ہم سے کوئی بدلہ یا شکرانہ نہیں چاہتے۔ یہ تو ہم صرف اللہ کے لئے خرچ کر رہے ہیں۔ (انسان ۹)

حج ایک سالانہ عبادت ہے جو کسی شخص پر زندگی میں ایک بار کے لئے فرض ہے۔ یہ فرض بھی اس وقت ہے جب کہ وہ اپنے مقام سے سفر کر کے حجاز جانے وہاں سے واپس آنے پر قادر ہو۔ اور اور اس کے مواقع رکھتا ہو۔ بصورت دیگر اس پر حج فرض نہ ہوگا۔ حج کے مقامات وہ مقامات ہیں جہاں اسلام کی تاریخ بنی ہے۔ وہاں وہ جگہیں ہیں جہاں پیغمبروں نے خدا کی عبادت کی ہے۔ جہاں ان کی قربانیوں کی یادگاریں ہیں، جہاں سے شرک کو دائمی طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔ وہ واحد مقام ہے جہاں تاریخ انسانی میں پہلی بار یہ واقعہ ہوا کہ لا دینیت کو مغلوب کر کے دین کو قیامت تک کے لئے غالب کر دیا گیا۔ ان آثار سے بھرے ہوئے جغرافیہ کو اس بات کے لئے منتخب کیا گیا ہے کہ ساری دنیا کے اہلِ اسلام ہر سال یہاں جمع ہوں اور سب مل کر اللہ کی عبادت کریں۔ اسلامی اتحاد کا سبق لیں۔ وہاں کی فضاؤں سے نیا ایمانی عزم اور نیا دینی شوق لے کر اپنے وطن کو لوٹیں۔ حج بتاتا ہے کہ کس طرح سارے انسانوں کو اللہ کے گرد جمع ہو جانا چاہئے ۔ روزمرہ کی زندگی میں مذکورہ پانچ ارکان قرآن کے الفاظ میں دین کے معلوم اور موقوت ارکان ہیں۔ مگر جب ایک شخص کی زندگی میں دین شامل ہوتا ہے تو وہ صرف متعین اوقات کے اعمال تک محدود نہیں رہتا دہ اس کی پوری زندگی میں رچ بس جاتا ہے۔ اس کے ہر رویہ سے اس کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ قرآن وحدیث سے اس سلسلے میں جو چیزیں معلوم ہوتی ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔

پہلی چیز ذکر ہے ۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے رہو (آل عمران ۱۹۱) حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ تمہاری زبان کو ہر وقت ذکر الہی میں تر رہنا چاہئے (لا یزال لسانك رطبا من ذكر الله)۔ ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے خوف اور محبت کا تعلق اتنا بڑھا ہوا ہونا چاہئے کہ آدمی کو ہر وقت اس کی یاد آتی رہے۔ یہ ذکر وہ روحانی تار ہے جس کے ذریعہ سے کوئی بندہ اپنے رب سے دائمی ربط (CONSTANT TOUCH) میں رہتا ہے۔ کبھی دنیا میں اللہ کی کاریگری کو دیکھ کر وہ اللہ کی قدرت کبریائی کا اعتراف کرتا ہے۔ کبھی اللہ کے احسانات کو یاد کر کے اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ کبھی قیامت کی باز پرس کا خوف اس کو تڑپاتا ہے اور وہ اللہ سے بخشش طلب کرنے لگتا ہے۔ کبھی اپنے عجز کا احساس اس کو ابھارتا ہے کہ وہ اللہ سے رحمت و نصرت کی درخواست کرے۔ غرض اس کے حساس قلب میں ہر آن کوئی نہ کوئی ایسی شورش بر پا رہتی ہے جو اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے اپنے رب کو پکارتا ہے۔ (اعراف ۲۰۵)

اس ذکر کا نہ کوئی نصاب ہے ۔ نہ اس کے الفاظ مقر رہیں اور نہ اس کی کوئی لگی بندھی صورت ہے۔ یہ تو خدا کی اُس آفاقی دنیا میں غوطہ لگانا ہے جہاں تمام تعینات ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر اس کو متعین شکلوں میں محدود کس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page