دین کیا ہے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۶
کیا جاسکتا ۔ اللہ کو یاد کرتے ہوئے، قرآن میں تدبر کرتے ہوئے، کائنات میں غور کرتے ہوئے، اپنا احتساب کرتے ہوئے، موت اور آخرت کو سوچتے ہوئے بار بار مومن کا جی بھر آتا ہے اور کبھی دل میں اور کبھی زبان سے اس کے اثرات ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ الفاظ بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ کی یاد گرم گرم آنسوؤں کی صورت میں اس کی آنکھوں سے ٹپک پڑتی ہے۔ یہ ہے ذکر اور یہ ذکر قرآن کے مطابق سب سے بڑی عبادت ہے (عنکبوت 45)
دوسری چیز نصح (خیر خواہی) ہے۔ اس کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الدین النصيحة (دین خیر خواہی کا نام ہے) مومن ہر قسم کی نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے دل میں دوسرے انسانوں کے لئے خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ نفرت، بغض، حسد، کینہ اور انتقام سے اس کا سینہ خالی ہوتا ہے۔ وہ ہوا کی مانند ہوتا ہے جو سب کے درمیان سے ٹکرائے بغیر گزر جاتی ہے۔ وہ سورج کی مانند ہوتا ہے جو کسی امتیاز کے بغیر ہر ایک کے اوپر چمکتا ہے۔ وہ پھولوں کی مانند ہوتا ہے جن کے دل میں کسی کے خلاف غصہ اور انتقام نہیں ہوتا۔ مومن خدا کا وہ بندہ ہے جو اپنے کو خدا سے ملالے۔ وہ بندوں کو اس نظر سے دیکھنے لگتا ہے ہے جس نظر سے لوگوں کا خالق انھیں دیکھ رہا ہے۔ ایسا شخص، حدیث کے الفاظ میں، اخلاق خداوندی کا پیکر بن جاتا ہے جس کو اپنے تمام بندوں سے یکساں پیار ہے نہ کہ شیطانی اخلاقیات کا جس کو صرف اپنے لوگوں" سے دل چسپی ہوتی ہے۔ بقیہ انسانوں کے لئے اس کے پاس نفرت اور عداوت کے سوا اور کچھ نہیں ۔ تیسری چیز قسط (انصاف) ہے۔ یعنی دوسروں کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ہمیشہ عدل وانصاف پر قائم رہنا۔ قرآن میں مسلمانوں کو انصاف کا حکم دیا گیا ہے (اعراف (۲۹) نیز فرمایا گیا کہ تم لوگ انصاف پر خوب قائم رہنے والے بنو (نساء ۱۳۵) جو چیزیں آدمی کو انصاف کے راستہ سے ہٹاتی ہیں ، ان کی نشان دہی کر کے تاکید کی گئی ہے کہ تم لوگ کسی حال میں انصاف سے نہ ہٹو۔ آدمی تعلقات کے پاس لحاظ میں انصاف سے ہٹ جاتا ہے۔ فرمایا کہ قرابت داری کا معاملہ ہو تب بھی عدل و انصاف پر قائم رہو (انعام ۱۵۲) ذاتی مفادات و خواہشات کبھی آدمی کو انصاف سے ہٹا دیتی ہیں۔ فرمایا کہ خواہش نفس کا تقاضا ہو تب بھی انصاف کی روش کو نہ چھوڑو (نساء ۱۳۵)۔ بغض اور نفرت میں آدمی انصاف کے حدود کو بھول جاتا ہے۔ فرمایا کہ کسی سے تمھاری دشمنی ہو جائے تب بھی تم اس کے ساتھ انصاف ہی کرو۔ کیونکہ یہی روش تقویٰ کے مطابق ہے (مائدہ ۸)
انصاف کا سب سے زیادہ آسان اور قطعی معیار، حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی دوسرے کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ خود اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ حتیٰ کہ فرمایا کہ اس شخص کے اندر ایمان ہی نہیں جو اپنے لئے کچھ اور چاہے اور دوسرے کے لئے کچھ اور (لا يؤمن احد كم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه)
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues