اشاعتِ دین
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۷
اشاعتِ دین
دین کسی دین دار کے اندر جو خصوصیات پیدا کرتا ہے ، ان میں سے ایک ہے ــــ دین کو دوسروں تک پہنچانا۔ اس پہنچانے کی دو صورتیں ہیں۔ قرآن میں ایک کو تذکیر اور دوسرے کو انذار (اعراف (۳) کہا گیا ہے۔ اول الذکر کا تعلق مسلمانوں سے ہے، دوسرے کا غیرمسلموں سے۔
تذکیر کے معنی ہیں یاد دلانا ۔ اس سے مراد مسلمانوں کو نصیحت و موعظت کرنا ہے۔ مسلمان وہ لوگ ہیں جو دین کو قبول کئے ہوئے ہیں۔ ان کو دینی ذمہ داریوں سے باخبر کرنا، ان کو خود اپنے عہد کو یاد دلانا ہے۔ اسی لئے اس کو تذکیر کا نام دیا گیا ہے۔
تذکیر کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح (نساء 114) ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس میں ان تمام آداب کو ملحوظ رکھا جائے جو اصلاحی مہم کو نتیجہ فساد کی مہم نہ بنا دے ــــــــــ غلطی پر گرفت میں نرمی کا انداز (آل عمران ۱۵۹) اختیار کیا جائے نہ کہ سخت سست کہنے کا۔ سورہ نحل آیت ۱۲۵ میں بتایا گیا کہ مدعو سے جو بات کہی جائے حکمت کے ساتھ کہی جائے ، یعنی دلائل وبراہین کی زبان میں ہو، نہ کہ محض حکمانہ انداز میں۔ وہ موعظت حسنہ ہو، یعنی گفتگو میں شفقت اور دل سوزی کی روح بھری ہوئی ہو۔ وہ جدال احسن کے پیرایہ میں ہو، یعنی بحث میں تفہیم اور احقاقِ حق کا انداز ہو نہ کہ ایک دوسرے پر الزام لگانے اور نیچا دکھانے کا ۔
تذکیر کا کام اگر حکمراں طبقہ پر انجام دینا ہو تو مسئلہ اور زیادہ نازک ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ غلط اندازِ تذکیر سے اگر حکمرانوں کو مشتعل کر دیا جائے تو وہ مسلمانوں کا قتل و خون شروع کر دیں گے اور مسلمانوں کے درمیان باہمی لڑائی اور قتل کا وجود میں آنا اللہ تعالیٰ کو اتنا زیادہ ناپسند ہے کہ ہر قیمت پر اس سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حکمرانوں کے بارے میں خصوصیت سے تاکید کی گئی ہے کہ ان کو نصیحت کی جائے تو تنہائی میں کی جائے نہ کہ نعروں اور تقریروں کے ذریعہ :
سئل ابن عباس رضی اللہ عنہما عن امر السلطان عبداللہ بن عباس رض سے پوچھا گیا کہ بادشاہ کو امر بالمعروف و نهيه عن المنكر فقال : ان كنت بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا کیا حکم ہے۔ جواب فاعلا ولا بد ففيما بينك و بينه دیا اگر تم کو کرنا ہی پڑے اور اس کے بغیر چارہ نہ ہو ابن رجب حنبلی، جامع العلوم والحکم، مكتبة الرياض الحديثة تو بس اپنے اور اس کے درمیان۔ قاهره ۱۹۶۲ء ، صفحه ۷۱ اس سلسلے کی دوسری چیز انذار ہے۔ انذار کے معنی ہیں کسی خطرہ سے آگاہ کرنا، چیتا ونی دینا۔ اس سے مراد غیرمسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔ چوں کہ اسلام کی پیغام رسانی میں سارا زور آخرت کے مسئلہ پر ہوتا ہے، اس لئے اس کام کو بتانے کے لئے یہ لفظ استعمال کیا گیا۔ قرآن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت فرمایا کہ وہ تو صرف
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues