Al-Risala · August 1978 · page 8

ہجرت ، جہاد

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۸

ایک عذاب شدید کی چیتاونی دینے والے ہیں (سبا ۳۶)۔ ارشاد ہوا ہے :

وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ قُرْآنَا عَرَبِيّاً لِّتُنْذِرَ اور ہم نے عربی قرآن اتارا تا کہ تو ڈرا دے مکہ والوں أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ کو اور دوسروں کو اور ان کو جمع ہونے کے دن کی خبر فِيهِ فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ دے دے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ اس دن ایک ( شوریٰ ۷ ) گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں۔

انذار کے کام کے محرک قرآن کے الفاظ میں دو ہوتے ہیں۔ نصیحت ( خیر خواہی ) اور امانت (اعراف ۸۷) بندہ مومن دوسرے بندگان خدا پر دین پہنچانے کا جو کام کرتا ہے وہ تمام اس جذبہ کے تحت ہوتا ہے کہ لوگ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں اور جنت کے راستہ پر چلنے لگیں۔ اللہ کا دین جو اس کے پاس ہے ، اس کو وہ اللہ کی طرف سے بھیجی ہوئی امانت سمجھتا ہے اور اپنے اوپر خدا کا یہ فرض سمجھتا ہے کہ اس امانت کو وہ اس کے امانت داروں (عام انسانوں) تک پہنچا دے۔

ہجرت ، جہاد

جب بھی کوئی خدا کا بندہ یہ آمیز خدا پرستی کی دعوت دیتا ہے تو اس کا امکان رہتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرف سے اس کو نا موافق رد عمل کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ رد عمل ابتدائے الغارتئی الکلام (فصلت 26) کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یعنی داعی کے کلام میں عیب نکالنا۔ حق کی دعوت کے ساتھ خدا کی نصرتیں ہوتی ہیں۔ وہ جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو اتنی حقیقی اور اتنی مدلل ہوتی ہے کہ سننے والے اس میں کوئی واقعی خامی نکالنے میں اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت وہ عیب نکالنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ طرح طرح کے شوشے نکال کر عوام کو اس سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ فکری کش مکش کبھی عملی ٹکراؤ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ٹکراؤ اہل ایمان کے لئے جو صورتیں پیدا کرتا ہے انہیں کی آخری اور انتہائی صورتوں کا نام ، ہجرت اور جہاد ہے ، گویا ہجرت اور جہاد دین کے وہ اجنار ہیں جو مخالفین کے پیدا کردہ حالات کے نتیجہ میں ظہور میں آتے ہیں۔

ہجرت کے معنی ہیں چھوڑنا ۔ ابتدائی طور پر اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے فرمایا ہے (مدثر ۵)۔ مگر اپنے آخری مرحلہ میں کبھی گھر بار چھوڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ داعی کے مقابلہ میں مدعو ہمیشہ طاقت ور حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اس لئے جب وہ مخالفت پر اترتے ہیں تو تمام تر دوسرے طریقے استعمال کرنے کے بعد بالآخر یہ چیلنج دے دیتے ہیں کہ تم یا تو اپنے دین کو چھوڑ دو یا ہماری زمین سے نکل جاؤ (ابراہیم ۱۳) اس وقت اللہ کے بندے ، اپنے وطن کو چھوڑ کر کسی ایسے مقام پر چلے جاتے ہیں جہاں وہ اپنے دین پر قائم رہ سکیں۔ جہاد کے معنے ہیں کوشش کرنا۔ حق کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے جو کوشش کی جاتی ہے، وہ بھی جہاد ہے (فرقان ۵۲)۔ تاہم مخالفین کی ضد اور ہٹ دھرمی کبھی بڑھ کر اس نوبت کو پہنچ جاتی ہے کہ وہ حق کے داعیوں کی جان کے دشمن بن جاتے ہیں، وہ ان کو بالکل مٹا دینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ اس وقت اہل حق کو اپنے بچاؤ کے لئے اٹھنا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page