Al-Risala · August 1978 · page 9

ہجرت ، جہاد

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۹

پڑتا ہے۔ اس طرح جو مقابلہ ہوتا ہے ، اس کو جہاد کہتے ہیں۔

جہاد بمعنی قتال ، وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانہ کی اصطلاح میں دفاعی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس کے شرائط میں سے ایک لازمی شرط یہ ہے کہ جنگ کی ابتدا عملاً دوسروں کی طرف سے کی گئی ہو (توبہ ۱۳)۔ اہل ایمان کے لئے ہر حال میں پر امن مبلغ کا حکم ہے۔ جنگ کی اجازت ان کے لئے صرف اس صورت میں ہے جب کہ ان کو جنگ کے لئے مجبور (حج ۳۹) کر دیا گیا ہو۔ اسی کے ساتھ اور بھی شرطیں ہیں ۔ مسلمانوں کی قوت مجتمع ہو، ان کا ایک امیر ہو۔ جس کی تمام لوگ اطاعت کرتے ہوں، وہ منکرین کی بستی سے الگ ہوکر اپنا ایک اجتماعی مرکز بنا چکے ہوں ۔ وہ صبر کی صفت اس حد تک اپنے اندر پیدا کر چکے ہوں کہ قلیل تعداد ہوتے ہوئے مخالفین کی کثیر تعداد سے جم کر مقابلہ کر سکیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں مکی دور میں ہر قسم کے ظلم کے باوجود تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کی اجازت صرف مدینہ میں ملی جب کہ مذکورہ شرائط پوری ہو چکی تھیں۔ عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق ستر سے زیادہ بار قتال کی ممانعت آتی رہی۔ اس کے بعد سورہ حج میں اجازت قتال کی پہلی آیت نازل ہوئی۔ غلبہ اسلام دین کی اصل حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے خوف و محبت کا تعلق جوڑے اور آخرت کی کامیابی کے لئے فکر مند ہو۔ مگر دنیا کی زندگی میں مومن کی ایک اور بھی پسندیدہ چیز (صف ۱۳) ہوتی ہے۔ اور وہ ہے اسلام کا غلبہ۔ یعنی اہل حق دوسری قوموں کے مقابلہ میں دبے ہوئے نہ ہوں بلکہ انھیں کو زمین کے اوپر سر بلندی حاصل ہو۔

تاہم اہل ایمان کو یہ حکم نہیں دیا گیا ہے کہ وہ براہ راست اسلامی اقتدار قائم کرنے کی مہم چلائیں۔ قرآن میں واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اقتدار کا مالک اللہ ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے حکومت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے (آل عمران ۲۶) ۔ انبیار میں سے کسی نبی نے بھی حکومت قائم کرنے کی مہم نہیں چلائی۔ حضرت داؤد کو حکومت ملی۔ مگر قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے داؤد تم کو یہ اقتدار ہم نے عطا کیا ہے (ص ۲۶) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی بابت قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اللہ کا وعدہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں اور نیک لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ عمل کریں ان کو وہ زمین میں حاکم بنائے گا جیسا کہ اگلے لوگوں مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى کو حاکم بنایا تھا۔ اور ان کے دین کو جما دے گا جس کو ان لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي کے لئے پسند کیا ہے اور ان کے ڈر کو امن سے بدل دے گا لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ وہ میری عبادت کریں گے کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں گے هُمُ الْفَاسِقُونَ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ اس کے بعد جو ناشکری کرے گا تو وہی لوگ فاسق ہیں۔ تم

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page