Al-Risala · August 1978 · page 15

Edited by Dr. Kohen, P. 404

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۵

وہی تھا جس نے اس سے پہلے عیسائیوں میں مقدس جھوٹ (Pious Fraud) کا نظریہ پیدا کیا تھا۔ حضرت مسیح کے بعد ابتدائی صدیوں میں مسیحیت بڑی ابتر حالت میں تھی۔ اس زمانہ میں مسیحی بزرگوں نے سوچا کہ مسیحیت کی ترقی کی ایک تدبیر یہ ہے کہ اس کی افضلیت ثابت کرنے کے لئے عجائب و غرائب باتیں گھڑی جائیں اور ان کو عوام میں پھیلایا جائے۔ اس مقصررد کے لئے وضع حدیث کا ثبوت خود موجودہ مقدس انجیل میں موجود ہے۔ سینٹ پال نے رومیوں کے نام اپنے خط (رومیوں، ۳: ۷) میں لکھا:

’’اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اُس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے۔ اور ہم کیوں برائی نہ کریں تاکہ بھلائی پیدا ہو‘‘ قرن اول کے بعد جب مسلمانوں میں باہمی لڑائیاں اور سیاسی جھگڑے بہت بڑھ گئے تو کچھ لوگوں نے ’’فضائل‘‘ کے نام پر جھوٹی حدیثیں وضع کرنی شروع کیں تاکہ لوگوں کو دینی اعمال کی طرف راغب کیا جاسکے ظاہر ہے کہ یہ فضائل جہاد نفس اور اتفاق مال جیسی چیزوں کے لئے کارآمد نہ تھے۔ چنانچہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے طلسماتی فائدے بتائے جانے لگے۔ مثلاً کوئی شخص فلاں سورہ روزانہ پڑھے تو وہ خدا کے مقابلہ میں آدمی کا حصار بن جاتی ہے۔ جہنم کے فرشتے جب اس کو عذاب دینے کے لئے آتے ہیں تو وہ ان سے لڑ کر ان کو بھگا دیتی ہے۔ ایک شخص نے سیکڑوں کی تعداد میں اس مضمون کی حدیثیں‘‘، گھڑ کر پھیلائیں کہ فلاں سورہ فلاں وقت‘‘ پڑھو، لو تو اتنا ثواب ہے اور فلاں وقت پڑھو تو اتنا ثواب ہے۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم نے دین کے معاملہ میں یہ جرات کیسے کی۔ اس نے جواب دیا : قصدت ان اشغل الناس بالقرآن عن غيره میں نے چاہا کہ لوگوں کو دوسرے مشاغل سے ہٹا کر قرآن پڑھنے میں لگا دوں۔

کسی نے حدیث گھڑی کہ کسی شخص کے ایک اولاد ہو اور اس کا نام وہ محمد رکھے تو باپ بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے (من ولد له مولود فسماه محمد اكان هو والوالد في الجنة) کسی نے حدیث بنائی کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کہے اس کو جنت میں سات ہزار شہر ملیں گے۔ ہر شہر میں سات ہزار محل ہوں گے۔ ہر محل میں سات ہزار حوریں ہوں گی (من قال لا اله الا الله اعطى في الجنة سبعين الف مدينة في كل مدينة سبعون الف قص في كل قص سبعون الف حوراء) کسی نے کہا کہ جس شخص نے 15 شعبان کو ۱۲ رکعتیں پڑھیں، اس طرح کہ ہر رکعت میں ۳۰ بار قل ھو اللہ احد پڑھا تو وہ نہ صرف خود جنت میں جائے گا بلکہ اپنے خاندان کے دس ایسے آدمیوں کو بھی خدا سے کہہ کر جنت میں لے جائے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہوگی (من صلى ليلة النصف من شعبان ثنتی عشرة ركعة يقرأ في كل ركعة ثلاثين مرة قل هو الله أحد شفع في عشرة من اهل بيته قد استوجبوا النار) سخاوی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے: القول البدیع في الصلوٰـة على حبيب الشفیع ۔ یہ کتاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے بارے میں ہے۔ پوری کتاب عجائب و غرائب قصوں سے بھری ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک قصہ، و سیکون في آخر امتي اناس يحدثونكم مالم تسمعوا انتم ولا آباؤكم فإياكم د ايا هم (رواه مسلم عن ابي هريرة )

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page