Edited by Dr. Kohen, P. 404
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۶
ان کے بیان کے مطابق، یہ ہے :
" ایک عورت حسن بصری کے پاس آئی اور عرض کیا کہ میری لڑکی کا انتقال ہو گیا۔ میری تمنا ہے کہ میں اس کو خواب میں دیکھوں۔ حسن بصری نے کہا کہ عشاء کی نماز پڑھ کر چار رکعت نفل نماز پڑھ اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد انھم التکاثر پڑھ اور اس کے بعد لیٹ جا۔ اور سونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتی رہ۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اس نے لڑکی کو خواب میں دیکھا کہ بے حد سخت عذاب میں ہے۔ تارکول کا لباس جسم پر ہے۔ دونوں ہاتھ بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ پاؤں آگ کی زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں۔ عورت صبح کو اٹھ کر حسن بصری کے پاس گئی۔ اور جو کچھ دیکھا تھا، ان کو بتایا۔
اگلے دن حسن بصری نے خواب میں دیکھا کہ جنت کا ایک باغ ہے ۔ اس میں ایک بہت اونچا تخت ہے۔ اس میں ایک حسین و جمیل لڑکی بیٹھی ہوئی ہے۔ اس کے سر پر ایک نور کا تاج ہے۔ وہ کہنے لگی حسن ! تم نے مجھ کو پہچانا، کہا نہیں ۔ بولی، میں وہی لڑکی ہوں جس کی ماں تم سے ملی تھی۔ حسن بصری نے کہا تیری ماں نے تو تیرا حال اس کے برعکس بتایا تھا جو میں دیکھ رہا ہوں۔ لڑکی نے جواب دیا، میری حالت وہی تھی جو ماں نے بیان کی ۔ میں نے پوچھا، پھر یہ مرتبہ کیسے حاصل ہو گیا۔ اس نے کہا، ہم ستر ہزار آدمی اسی عذاب میں مبتلا تھے جو میری ماں نے آپ سے بیان کیا۔ پھر ایسا ہوا کہ ایک بزرگ کا گزر ہمارے قبرستان پر ہوا۔ انھوں نے ایک دفعہ درود پڑھ کر اس کا ثواب ہم سب کو پہنچا دیا۔ ان کا درود اللہ کے یہاں ایسا قبول ہوا کہ اس کی برکت سے ہم سب اس عذاب سے آزاد کر دیئے گئے اور ہم کو وہ رتبہ نصیب ہوا، تم دیکھ رہے ہو،“ اس قسم کی بے شمار روایات گھڑ کر ساری امت میں پھیلادی گئیں۔ اب اگر کچھ لوگ یہ کریں کہ ان "حدیثوں" کو جمع کر کے فضائل اعمال کا صحیفہ مرتب کریں اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو دین دار بنانا شروع کریں تو ایک عجیب و غریب قسم کا دین وجود میں آئے گا۔ لوگ بظاہر ہر ذکر اور درود اور تلاوت اور نماز میں مشغول ہوں گے مگر یہ مشاغل ان کے سینہ میں خوف خدا سے کانپنے والا قلب نہیں بنائیں گے۔ بلکہ ایک ایسا قلب وجود میں آئے گا جو اپنے کو خدا کی پکڑ سے بالکل مامون سمجھے گا۔ معمولی معمولی باتوں سے جب ہر صبح و شام جنت کے محلات رزرد ہو رہے ہوں تو آخرت کے خوف سے کانپنے کی کیا ضرورت ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی ”امانی" نے اللہ کے دین کو عملاً مذاق بنا کر رکھ دیا۔ وہ دین جس کا مقصد بندوں میں خشیت اور اندیشہ کی کیفیت پیدا کرنا تھا۔ وہ صرف قساوت میں اضافہ کا سبب بن گیا۔
خالق کے بجائے مخلوق کا سہارا پکڑنا قرآن کی ایک آیت ہے :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کا وسیلہ الْوَسِيلَةَ (مائدہ ۳۵) تلاش کرو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues