Edited by Dr. Kohen, P. 404
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷
اس آیت میں ”وسیلہ“ کے لفظ کو کچھ لوگوں نے اس مفہوم میں لے لیا جس میں وہ اردو زبان میں استعمال ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح دنیوی حکمرانوں کے یہاں ذریعے اور وسیلے ہوتے ہیں، اسی طرح خدا کے یہاں بھی وسیلے ہیں۔ یہ وسیلے انبیاء، اور اولیاء ہیں۔ ان وسیلوں کو پکڑلو، ساری خدائی تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔ یہ عقیدہ چونکہ عوامی مزاج سے قریب تھا، اس کو خوب مقبولیت حاصل ہوئی۔ اب یہ حال ہے کہ خدا کے بالمقابل بے شمار زندہ اور مردہ ”خدا پیدا ہو گئے ہیں جن کا دامن لوگوں نے تھام رکھا ہے۔ ان کو یقین ہے کہ یہ خدائی وسیلے دنیا سے لے کر آخرت تک ان کے سارے کام بناتے چلے جائیں گے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ بالا قسم کے عقیدہ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ عربی زبان میں ”وسیلہ“ کا مفہوم سرے سے نہیں آتا۔ لفظ وسیلہ مذکورہ آیت میں، اردو (ذریعہ) کے مفہوم میں نہیں ہے، بلکہ اپنے عربی مفہوم (قرب) کے معنی میں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرڈراور اس کی فرماں برداری اور اس کے پسندیدہ عمل کے ذریعہ اس کی قربت اور نزدیکی حاصل کرو (تقربوا اليه بطاعته والعمل بما یر ضہ، قتاده) ابن جریر طبری نے اس کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : (اطلبوا القربة اليه بالعمل بما يرضيه (اللہ کی نزدیکی اس عمل کے حاصل کرنے کی کوشش کرو جس عمل کو وہ پسند کرتا ہے)
کسی بندے کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے قریب پہنچ سکے۔ اس آیت میں یہ راز کھولا گیا تھا کہ اس مطلوب کو پانا ہر بندہ کے لئے ممکن ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنے کو اپنے رب کے پسندیدہ راستہ پر لگا دے۔ مگر غلط تعبیر نے آدمی کو اس خزانہ سے محروم کر دیا جو اس کے اندر رکھا گیا تھا۔ جس آیت میں خدا کو پانے کا راز بتایا گیا تھا، اس نے لوگوں کو صرف قبروں اور آستانوں تک پہنچانے کا کام انجام دیا۔ وہ آیت جس میں خوف خدا کی غذا تھی، ایک خود ساختہ تشریح کے ذریعہ اس میں بے خوفی کا سامان تلاش کر لیا گیا۔ جو قرآن اللہ کی پرستش کی تعلیم دینے آیا تھا، اس سے لوگوں نے غیر اللہ کی پرستش کا حکم نکال لیا۔ اس عقیدہ کے تحت جو مذہب بنا، قدرتی طور پر اس میں قبروں کی پرستش اور زندہ ”بزرگوں“ کی عقیدت نے خوب ترقی کی ” اولیاء اللہ، کی فضیلت و کرامت کی بے شمار فرضی کہانیاں گھڑی گئیں۔ تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ یہ حضرات بھی اپنے اندر خدائی طاقتیں رکھتے ہیں۔ بزرگوں کی کراماتی داستانوں کی مقدس طلسم ہوشربا تیار ہو گئی ہے اور ساری قوم اس کی تلاوت میں مشغول ہے۔ اس کے برعکس اللہ سے خوف و محبت، ،گناہوں سے بچنے کی تڑپ، آخرت کی بازپرس سے بچنے کا فکر بالکل ختم ہو گیا ہے۔ کیوں کہ ”وسیله“ حاصل کر لینے کے بعد ان چیزوں کے لئے فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔
اس قسم کے تمام عقائد دراصل خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ (Underestimation) ہیں۔ جو لوگ زندہ یا مردہ انسانوں سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں، انھیں خبر نہیں کہ یہ ہستیاں ایک مکھی پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں (حج ۷۳)، جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اکابر کا دامن تھام کر جنت میں پہنچ جائیں گے، ان کو خدا کے قانون جزا وسزا کی سنگینی کا اندازہ نہیں (انعام ۹۱) جو لوگ آخرت کے دن کو اپنے بڑوں کی جلوہ گاہ سمجھتے ہیں، ان کو خبر نہیں کہ آخرت جب آئے گی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues