ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
تو عالم یہ ہوگا کہ سارا آسمان، خدا کے ایک ہاتھ میں بیٹھا ہوا ہوگا ۔ اور زمین کو خدا اپنی مٹھی میں لے کر فرمائے گا : انا الملک انا الجبار انا المتکبر، این الجبارون این المتکبرون این ملوک الارض (میں ہوں بادشاہ میں ہوں جبار میں ہوں کبریائی والا، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں جبار کہاں ہیں متکبر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے یہ الفاظ دہرائے تو راوی کا بیان ہے کہ :
فرجفت برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المنبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ حتی ظننا لیکونن به ابن کثیر)
ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے
دوسری طرف ہم نے ایسے ایسے "بزرگ" پیدا کر رکھے ہیں جو میدان حشر میں خدا کے سامنے ہماری طرف سے وکیل بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور اس وقت تک کسی کو جنت میں جانے نہ دیں گے جب تک اپنے تمام معتقدین کو جنت میں نہ بھیج لیں۔ معانی کے بجائے صورتوں کو مطلوب سمجھ لینا 1۔ قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں کہا گیا ہے : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ۔ اس کا ترجمہ لوگوں نے ان الفاظ میں کیا؛ "ہم نے سہل کر دیا قرآن کو حفظ کرنے کے لئے، پھر کوئی ہے حفظ کرنے والا"۔ اس ترجمہ کے مطابق سمجھ لیا گیا کہ اس آیت میں قرآن کو رٹ کر یاد کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اب بے شمار لوگ قرآن کو رٹنے میں مشغول ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ اس آیت کے حکم کی تعمیل کر رہے ہیں۔ قرآن کی سورتوں کو یاد کرنا بجائے خود مومن کی ایک ضرورت ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مذکورہ آیت کا اس قسم کے عمل سے کوئی تعلق نہیں۔
شاہ عبدالقادر صاحب نے آیت کا ترجمہ کیا ہے : "ہم نے آسان کیا قرآن سمجھنے کو پھر ہے کوئی سوچنے والا" مطلب یہ کہ قرآن میں حقائق دینیہ کو مدلل اور قابل فہم انسانی زبان میں پیش کر دیا گیا ہے۔ پھر کوئی ہے جو اس پر دھیان دے اور اس سے اپنے لئے نصیحت اور اصلاح کا سامان حاصل کرے ۔ اس آیت میں کتاب الہی پر غور و فکر کے لئے اکسایا گیا ہے۔ قرآن کے اندر آدمی کے قلب و دماغ کے لئے جوربانی غذا رکھی گئی ہے ، اس میں سے اپنا حصہ لینے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مگر ایک معنوی حقیقت کو لفظی تکرار کے معنی میں لینے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آیت آدمی کے لئے اس قسم کی غذا کا ماخذ نہ رہی۔ وہ الفاظ کو زبانی طور پر رٹنے کے ایک بے کیف عمل کے ہم معنی بن کر رہ گئی۔
۲۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے :
مَنْ قَالَ لا إله إلا الله دخل الجنة جس نے کہا لا الہ الا اللہ وہ جنت میں جائے گا۔
اس قسم کی روایات میں لفظ "قول" کو دیکھ کر کچھ لوگوں نے سمجھ لیا کہ بس کلمہ اسلام کا تلفظ ہی جنت میں داخلہ کے کے لئے کافی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آدمی کا ایک قول اس کے لئے جنت کا دروازہ کھولتا ہے۔ مگر قول سے مراد ایک حقیقی انسان کا قول ہے نہ کہ کسی کمپیوٹر کا قول۔ ایک حقیقی انسان کا قول اس کی پوری ہستی سے ٹپکتا ہے نہ کہ محض حرکت لسانی سے وجود میں آتا ہے۔ ایک بندہ جب فی الواقع یہ قول دیتا ہے کہ "اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں"، تو وہ محض کچھ رسمی
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues