Al-Risala · August 1978 · page 19

ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹

الفاظ نہیں ہوتا۔ وہ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس نے خدا کی قدرت کاملہ کے مقابلہ میں اپنے عجز کمال کو پالیا ہے۔ یہ بول اس کی اندرونی ہستی کا لفظی اظہار ہوتا ہے نہ کہ اس کی حقیقی ہستی سے الگ محض حرکت لِسانی کی سطح پر چند کلمات کا لفظ۔ قول کی یہ حقیقت قرآن وحدیث سے بخوبی واضح ہے۔ مثال کے طور پر سورۂ مائوہ میں ایک گروہ کا ذکر ہے جس نے کہا تھا کہ "اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے۔ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے اس گروہ کے متعلق قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان کے اس «قول» کی وجہ سے اللہ نے ان کو جنت دے دی فا ثا بهم اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ - ۸۵) مگر قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قول محض حرکت لسان نہ تھا بلکہ اعلیٰ نفسیاتی سطح پر عرفانِ حق کا معاملہ تھا۔ یہ ان کی پوری ہستی جو لفظوں کی صورت میں ابلی پڑی تھی۔ اس قسم کا واقعہ اگرچہ بظاہر ایک قولی اقرار ہوتا ہے مگر حقیقتاً وہ کائنات کا سنجیوہ ترین معاملہ ہوتا ہے جس کے ایک سرے پر عاجز اور حقیر بندہ ہوتا ہے اور اس کے دوسرے سرے پر دہ قادر مطلق ہستی ہوتی ہے جس کی تجلیات کو پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہ صورت حال اس اقرار کو بے حد سنگین واقعہ بنا دیتی ہے۔ اپنی ساری لطافت کے باوجود جب یہ «قول» عالم واقعہ میں ظہور میں آتا ہے تو انسانی شخصیت کے لئے وہ اتنا سنگین ہوتا ہے کہ آنکھوں کی راہ سے آنسوؤں کا سیلاب پھٹ پڑتا ہے (تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ)

وہ اقرارِ ایمان جو آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے، قرآن وحدیث کے مطابق ، آدمی کی پوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ مگر اس سے یہ مفہوم نکال لیا گیا کہ زبان سے کلمہ اسلام کا تلفظ کرو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ ٣ - قرآن میں حکم دیا گیا ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (احزاب) اے ایمان لانے والو اللہ کو یاد کرو بہت زیادہ اس آیت میں ” ذکر کثیر“ کے لفظ کو کچھ لوگوں نے گنتی کے معنوں میں لے لیا۔ دہ اس فکر میں لگ گئے کہ کتنا زیادہ ذکر ہو تو وہ کثیر کہا جائے گا۔ کچھ لوگوں نے تین سو کا نصاب بنایا۔ کسی نے پچاس ہزار کا، کسی نے ایک لاکھ کا۔ اس طرح کے عددی نصاب کا یہ بھی تقاضا تھا کہ ذکر کے لئے کوئی متعین لفظ یا فقرہ ہو۔ کیوں کہ الفاظ کے تعین کی صورت ہی میں اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مقررہ نصاب کا عدد پورا ہوا یا نہیں۔

مگر اس طرح کے کسی عمل کا مذکورہ آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں اللہ کے ذکر سے مراد اللہ کی یاد ہے مطلب یہ ہے کہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرو۔ خدا کا اور خدا کی باتوں کا تصور اپنے اوپر اتنا زیادہ طاری کرو کہ وہ ہر وقت تم کو یاد آتا رہے۔ یہ ذکر دراصل گہرے تعلق باللہ کا نتیجہ ہے۔ وہ مصنوعی طور پر نہیں کیا جاتا بلکہ فطری طور پر اس وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ آدمی کا اندرون خدا کے خوف ومحبت سے بھر گیا ہو۔ بندہ نفسیاتی طور پر اپنے رب سے جڑ گیا ہو۔ ذکر حقیقی کی پہچان یہ ہے کہ تنہائیوں میں بندہ اپنے خدا کو یاد کرے اور شدت یاد سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں (ذکر اللہ خاليا نفاضت عيناها) خدائے ذوالجلال کا ذکر آنسوؤں کے قطرات پر ہوتا ہے نہ کہ تسبیح کے دانوں پر۔

قرآن کا ایک حکم جس میں روح کو تڑپانے اور قلب کو پگھلانے کا سامان تھا، اس کو ورزشِ لسان کے ہم معنی سمجھ لیا گیا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page