Al-Risala · August 1978 · page 20

ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰

جو قلب کو صرف سخت کرنے والا ہے نہ کہ وہ لطافتِ احساس کے اس مقام کو پہنچائے جس کو ذکر کہا گیا ہے۔ دعا کے بجائے عملیات دعا (اللہ سے مانگنا) اہم ترین عبادت ہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے اللہ: مخ العبادة (دعا عبادت کا مغز ہے)، الدعا ، ھی العبادة (دعا ہی عبادت ہے)۔ مگر یہود کے اثر سے مسلمانوں میں دعا کے بجائے عملیات کا رواج چل پڑا ۔

دونوں کا فرق سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے۔ ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرتا ہے۔ دوسرا شخص اسی ملازمت کے لئے یہ کرتا ہے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ یہ یقین کرتا ہے کہ اسی حال میں سات دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی ـــــــــ پہلی مثال درخواست کی مثال ہے۔ دوسری مثال کرتب یا عملیات کی مثال۔

خدا سے مانگنے کا طریقہ صرف دعا کا طریقہ ہے۔ دعا یا درخواست وہ چیز ہے جو بندے کو براہِ راست خدا سے ملاتی ہے۔ وہ اس کے اندر عبودیت کے جذبات ابھارتی ہے۔ وہ اس کو دین کی حقیقت اعلیٰ سے آشنا کرتی ہے۔ دعا میں بندہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ وہ اس کو پکارتا ہے۔ اس سے روتا گڑ گڑاتا ہے۔ وہ اس کے قریب پہنچ کر ان ربانی کیفیات کا تجربہ کرتا ہے جو کسی اور طرح آدمی کو نہیں مل سکتیں۔ اللہ سے مانگنے کی کیفیت ابھرنا سب سے بڑا دینی حاصل ہے۔ مگر عملیاتی کرتب دکھان اتنا ہی بے معنی ہے جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ عملیات کی دو قسمیں ہیں ـ عبادتی عملیات اور ساحرانہ عملیات۔ عبادتی عملیات سے مراد وہ طریقے ہیں جن کے متعلق یقین کر لیا گیا ہے کہ ان کو دہرالینے سے آخرت کی نعمتوں کے دروازے آدمی کے اوپر کھل جاتے ہیں۔ ساحرانہ عملیات وہ ہیں جو دنیا کی حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے گھڑے گئے ہیں۔ راقم الحروف کی ملاقات ایک عالم سے ہوئی۔ ملاقات کے دوران انھوں نے ایک کتاب کا ذکر کیا جس میں محدثین کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا تھا: انھوں نے زبردست محنت کر کے تمام حدیثیں جمع کیں اور انا کو ہمیشہ کے لئے کتابی صورت میں محفوظ کر دیا؛ موصوف نے انتہائی خفگی کے ساتھ اس فقرہ کا ذکر کیا۔ میں حیران تھا کہ اس فقرہ میں آخر وہ کون سی خرابی ہے جس پر وہ اتنے شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ دریافت کرنے پر وہ بولے " آپ کیسے دعویٰ کر سکتے ہیں کہ محدثین نے تمام کی تمام حدیثیں جمع کر ڈالی ہیں"۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر صلاۃ معکوس کی روایت محدثین کو نہیں ملی۔ جب کہ فلاں بزرگ نے اس کو اپنی کتاب میں درج کیا ہے صلاۃ معکوس کا مطلب ہے الٹی نماز۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ بستی کے باہر کوئی ایسا اندھا کنواں تلاش کیا جائے جس کے اوپر درخت اگا ہوا ہو۔ آدمی درخت سے رسی لگا کر اپنا پاؤں اس میں باندھ لے اور کنویں میں سر نیچے پاؤں اوپر کر کے لٹک جائے اور اسی حالت میں نماز ادا کرے۔ بتایا جاتا ہے کہ جو شخص ایک بار بھی یہ نماز پڑھ لے وہ دونوں

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page