Al-Risala · August 1978 · page 21

ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱

جہان کا سعادتیں سمیٹ لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ بزرگ موصوف نے اس روایت کے ساتھ اس کی سند نقل نہیں کی ہے۔ اس لئے کیوں کر اس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ اس پر موصوف بگڑ گئے اور بات ختم ہوگئی۔ بعد کے دور میں، خصوصاً متصوفانہ حلقوں میں مسلمانوں کے درمیان بہت سے عملیاتی طریقے رایج ہوئے، وہ سمجھ لیا گیا کہ ان پر اسرار شکلوں کو ان کے ظاہری آداب کے ساتھ وہرا دینے سے معجزاتی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس قسم کے عملیات نے خدا کے دین کو اس سطح پر پہنچا دیا جہاں روایتی کہانی کے طلسماتی خزانہ تھا۔ وہ ”سم سم“ کہنے سے کھلتا تھا۔ دوسرا کوئی لفظ مثً جم جم یا دم دم کہنے سے نہیں کھلتا تھا۔ اسی طرح گویا اسلام کے بھی کچھ منتر یا کرتب تھے۔ آدمی نے انگان کو ظاہری صحت کے ساتھ دہرادیا تو اس کے بعد نجات اور سعادت کے تمام دروازے اس کے لئے کھل جائیں گے، ٹھیک ویسے ہی جیسے ”سم سم“ کہنے سے طلسماتی خزانہ کا دروازہ کا کھل جانا۔ مگر یہ یہ اسلام ہے جو دوسری قوموں کے اثر سے لیا گیا ہے۔ قرآن وحدیث کے اسلام سے اس کا کوئی تعملق نہیں۔ اسلامی عبادت انابت الی اللہ (زمر ۱۷) کا نام ہے۔ اس کی حقیقت خدا کے آگے دل کا جھکا ؤ ہے نہ کہ اعضاء و جوارح کے ذریعہ کوئی کرتب دکھانا۔ قرآن میں ساحرانہ عملیات کو کفر کہا گیا تھا (بقرہ ۱۰۲) مگر ایک خوبصورت تاویل کر کے اس کو اسلام میں داخل کر لیا گیا۔ مولانا اشرف علی تھانوی مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں :

لا سحر میں اگر کلمات کفریہ ہوں مثل استعانت بہ شیاطین یا کواکب وغیرہ تب تو کفر ہے. اور اگر کلمات مباحہ ہوں تو اگر کسی کو خلاف اذن شرعی کسی قسم کا ضرر پہنچایا جائے اور کسی غرض ناجائز میں استعمال کیا جائے تو فسق اور معصیت ہے۔ اور اگر ضرر نہ پہنچایا جائے اور کسی غرض ناجائز میں استعمال کیا جاوے تو اس کو عرف میں سحر نہیں کہتے بلکہ عل یا تعویذ گنڈہ کہتے ہیں اور وہ مباح ہے ۔ (تفسیر بیان القرآن)

اس تاویل کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن جو فلاح آخرت کا راستہ دکھانے کے لئے آیا تھا، اس کو فلاح دنیا کا موضوع بنا لیا گیا ۔ ہر قسم کے دنیوی مقاصد میں قرآن کو استعمال کیا جانے لگا۔ اسرائیلی روایات کے تحت عملیات کا جو علم سینہ بہ سینہ چلا آرہا تھا، اس کے علاوہ خود "کتاب محفوظ " بھی طرح طرح کے عملیاتی نسخوں کی قیمتی ماخذ بن گئی ۔ " اعمال قرآنی" کے نام پر مسلمانوں نے جو سفلی طریقے رایج کئے ان میں سے ایک دہ ہے جس کو قرآنی سورتوں کے "خواص" کہا جاتا ہے۔ یہ خواص سب کے سب دنیوی نوعیت کے ہیں۔ حتیٰ کہ یہود کی تقلید میں ہر سورہ کے اعداد مقرر کئے گئے ہیں اور ان کے نقوش بنا کر حاجات دنیا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بے شمار لوگوں نے تعویذ گنڈوں کی دکانیں کھول لی ہیں اور قرآن کو ایک تجارت بنا کر رکھ دیا ہے۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ سورہ مریم کے اعداد دو لاکھ ننانوے ہزار چھ سو چالیس ہیں۔ اس کے اعداد کا نقش حسب ذیل ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page