ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۲
ایک بہت بڑے بزرگ لکھتے ہیں۔ "اگر باغ ویران شدہ میں درختوں کے ساتھ سورہ مریم کا نقش باندھ دیں تو باغ گلہائے شگفتہ اور ثمر سے بھر پور ہو جائے‘‘ "۔ ان اعمال کے نتیجہ میں نہ صرف قرآن ایک سستا دنیوی نسخہ بن کر رہ گیا بلکہ وہ قوم کے اندر توہمات پیدا کرنے کا سبب بن گیا۔ کیوں کہ اس قسم کے نقش تعویذ سے کبھی کوئی ویران باغ پھولوں اور پھلوں سے لدا ہوا چمن نہیں بن سکتا۔ مزید یہ کہ جس قوم میں اس قسم کی عملیات کا رواج ہو جائے اس کے اندر کبھی صحیح معنوں میں خدا پرستانہ مزاج پیدا نہیں ہو سکتا۔ آدمی جب دعا کرتا ہے تو وہ اللہ سے مانگتا ہے اس کی توجہ تمام تر اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس جب وہ عملیات کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کی توجہ اس عمل کے پر اسرار خواص پر لگی رہتی ہے۔ دعا میں آدمی اللہ سے جڑتا ہے اور عملیات میں خود عملیات سے یا ان پر اسرار اسباب سے جن کے متعلق اس کا گمان ہوتا ہے کہ وہ عملیات کے پیچھے کام کر رہے ہیں ۔ صلاۃ التسبیح اور ختم خواجگان سے لے کر نقش تعویذ تک ۔ جو بے شمار عملیات مسلمانوں میں رائج ہوئے ، انھوں نے دین خداوندی کو دین یہودیت بنا کر رکھ دیا ہے ۔ ذاتی حکم کو خارج کی طرف موڑ دینا قرآن میں اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے : وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَان رسیدھی ترازو تولو انصاف سے اور مت گھٹاؤ تول کو) اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ باہمی تعلقات میں عدل پر قائم رہیں۔ کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے نہ کسی کا حق دبائے ۔ ترازو کی طرح ہر ایک سے انصاف کا معاملہ کیا جائے۔ یہ آیت آدمی کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنی ذات کو عدل و انصاف کی راہ پر ڈال دے۔ لیکن اگر کسی کے ذہن میں اس آیت کا یہ مطلب بیٹھ جائے کہ "لوگوں کے ترازو کو سیدھا کرو" تو سارا معاملہ الٹ جائے گا ۔ اب اس آیت میں اس کی اپنی ذات کے لئے کوئی غذا نہ ہوگی۔ وہ اس حکم کا مطلب یہ سمجھے گا کہ دوسروں کے اوپر " داروغہ انصاف " بن کر کھڑا ہو جائے ۔ وہ اپنی اصلاح کی فکر کرنے کے بجائے دوسروں سے لڑنا شروع کر دے گا ۔ خواہ اس لڑائی کا نتیجہ عملاً شدید تر بے انصافی کو لانے کے ہم معنی کیوں نہ بن جائے ۔
یہی صورت ان لوگوں کے ساتھ پیش آئی ہے جو دین کو " اسٹیٹ کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ذہن کی وجہ سے دین کو ایک ریاستی نظام کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں۔ دین ان کے لئے حکومتی امور کا موضوع ہے نہ کہ حقیقۃ ذاتی اصلاح کا موضوع ۔ اپنی دینی ذمہ داری کا تصور ان کے ذہن میں یہ ہے کہ دین کو ایک ریاستی نظام کی حیثیت سے زمین پر جاری و نافذ کیا جائے ۔ چوں کہ سارے قرآن میں کوئی ایسی آیت نہیں جس سے اس قسم کا دینی مشن اخذ ہوتا ہو۔ اس لئے ان کے ذہن نے نہایت آسان سبیل یہ نکالی کہ انفرادی احکام کو اجتماعیات کی طرف موڑ دیا۔ "ترازو صحیح تولو، کو اس مفہوم میں لے لیا کہ "لوگوں کے ترازو صحیح کرو" نتیجہ یہ ہوا کہ جن احکام میں فرد کے لئے اپنی ذات کی غذا رکھی گئی تھی، وہ دوسروں کے خلاف تقریر اور ایجی ٹیشن کی خوراک لینے کا ماخذ بن کر رہ گئی۔
ا۔ قرآن میں حکم دیا گیا ہے ۔ اَقِيمُو الدّين (شوری ۱۳) اس کا نشانہ آدمی کی اپنی ذات ہے۔ اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues