Al-Risala · August 1978 · page 23

ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۳

مطلب یہ ہے کہ اپنی زندگی کو پوری طرح دین کے سانچے میں ڈھال لو۔ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو درست کرو اور بندوں کے جو حقوق تمہارے اوپر آتے ہیں، ان کو ٹھیک ٹھیک پورا کرو۔ مگر جن لوگوں کے ذہن میں دین کا مذکورہ ”انقلابی“ مفہوم بیٹھا ہوا ہے، ان کے لئے یہ آیت اس قسم کی ذاتی غذا کا سبب نہ بن سکی۔ انھوں نے اپنے ذہنی شاکلہ کے مطابق اس کا مطلب یہ نکال لیا کہ ۔ ۔۔۔ دین کو بحیثیت ایک ریاستی نظام کے زمین پر نافذ کرو۔ وہ آیت جو آدمی کے اپنے اندرون کو جھنجوڑنے والی تھی، وہ صرف خارجی ہنگامہ آرائی کا عنوان بن کر رہ گئی ۔ اس آیت کو پڑھ کر مذکورہ ذہن نے فوراً اس قسم کی تقریر شروع کر دی :

”قرآن مجید کو جو شخص بھی آنکھیں کھول کر پڑھے گا۔ اسے یہ بات صاف نظر آئے گی کہ یہ کتاب اپنے ماننے والوں کو کفار اور کفار کی رعیت فرض کر کے مغلوبانہ حیثیت میں مذہبی زندگی بسر کرنے کا پرو گرام نہیں دے رہی ہے۔ بلکہ یہ علانیہ اپنی حکومت قائم کرنا چاہتی ہے۔ اپنے پیروؤں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ دین حق کو فکری ، اخلاقی، تہذیبی اور قانونی وسیاسی حیثیت سے غالب کرنے کے لئے جان لڑا دیں اور ان کو انسانی زندگی کی اصلاح کا وہ پروگرام دیتی ہے جس کے بہت بڑے حصہ پر صرف اسی صورت میں عمل کیا جا سکتا ہے جب حکومت کا اقتدار اہل ایمان کے ہاتھ میں ہو۔ “ یہ تقریر صرف اس لئے وجود میں آئی کہ وہ حکم جس کا مطلب تھا "دین پر قائم ہو"، اس کو اس معنے میں لے لیا گیا کہ ۔۔۔۔ "دین کو دوسروں کے اوپرقائم کرو"

۲- قرآن میں حکم دیا گیا ہے : یَا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْط (نساء ۱۳۵) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو! تم میں سے ہر شخص انصاف کو اختیار کرے، عدل کی روش پر خوب خوب قائم ہو جائے۔ اس حکم کا نشانہ آدمی کی اپنی ذات ہے۔ وہ انسان کو خود اپنی اصلاح کے بارے میں پوری طرح متحرک کرنا چاہتی ہے۔ مگر مذکورہ ذہن کے سامنے یہ آیت آئی تو اس نے اس کا ترجمہ کیا: ”اے ایمان والو! انصاف کے علم بردار بنو! اور اس کے بعد اس نے ان الفاظ میں اس کی تفسیر شروع کر دی :

”یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو۔ بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علم بردار بنو۔ تمھارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے۔ تمھیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہئے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل وراستی قائم ہو۔ عدل کو اپنے قیام کے لئے جس سہارے کی ضرورت ہے، مومن ہونے کی حیثیت سے تمھارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو۔ “ اس تقریر کو پڑھنے والا اس آیت سے جو اثر لے گا وہ یہ کہ آدمی انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھے اور لوگوں کے اوپر انصاف کا نظام قائم کرے۔ بالفاظ دیگر یہ آیت ، مذکورہ تشریح کے خانہ میں خارجی مشن کا پیغام بن جاتی ہے۔ حالاں کہ آیت کا اس قسم کے خارجی مشن سے کوئی تعلق نہیں۔ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ : ”اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم رہنے والے بنو۔ “ یہ آیت ہر بندہ مومن کو ذاتی طور پر خطاب کر رہی ہے اور اس کو خدا کا یہ پیغام پہنچا رہی ہے کہ تم اپنی زندگی کے معاملات میں انصاف کی روش پر قائم رہنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرو۔ اپنے آپ کو انتہائی

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page