ہم نے کہا کہ آپ منبر سے گر پڑیں گے
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۳۴
حد تک انصاف کا عامل بناؤ۔ آیت کے اگلے الفاظ مزید تاکید کر ر ہمیں کہ جب کسی سے اختلاف ہو جائے اس وقت بھی انصاف کی روش کو نہ چھوڑو۔ ایک حکم الہی جس میں ہدایت کی ذاتی غذا تھی، زاویہ نگاہ بدل جانے کی وجہ سے وہ خارجی دنیا کے خلاف تقریری کمال دکھانے کا عنوان بن گیا ۳- قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً (بقره - ۲۰۸) یہ آیت بھی اہل ایمان کو انفرادی طور پر خطاب کر رہی ہے اور ہر شخص سے کہہ رہی ہے کہ تم اپنی زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگ لو، اپنے عقائد اور اپنے اخلاق و معاملات میں اسلامی تعلیمات کو پوری طرح اختیار کر لو۔ اس میں ہر بندہ مومن کے لئے ذاتی ہدایت کا سامان ہے۔ اس آیت میں شخص اپنے رب کو اپنے آپ سے خطاب کرتے ہوئے پاتا ہے۔ مگر مذکورہ دینی مزاج پیدا ہو جائے تو آیت کو پڑھتے ہی آپ کا ذہن خارجی دنیا کی طرف مڑ جائے گا، آپ اس کو تلاوت کر کے حسب ذیل تقریر شروع کر دیں گے : "لوگو، قرآن کی یہ آیت ہیں ایک عظیم انقلابی پروگرام دے رہی ہے۔ وہ مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اٹھیں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی حکومت کا نظام قائم کر دیں۔ خاندان سے لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور بین اقوامی زندگی تک کوئی گوشہ حکومت خداوندی سے باہر نہ رہے ، بظاہر یہ تقریر بڑی شان دار معلوم ہوتی ہے۔ مگر وہ ایک ایسے تقریری ریکارڈ کی مانند ہے جو خالی میدان میں بجایا جا رہا ہو، جس کا نہ کوئی سننے والا ہو اور نہ اثر لینے والا۔ ۴۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ (یوسف - (۶)
اس آیت کا ترجمہ یہ ہے : ﴿ حکم تو بس اللہ ہی کا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اس عالم میں طاقت و اقتدار کے تمام سرے خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ انسان خواہ کچھ بھی سوچے اور کتنی ہی تدبیریں کرے ۔ مگر وہی ہوگا جس کی اجازت خدا دے گا۔ خدا کی مرضی کے بغیر اس کائنات میں کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ یہ آیت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر عاجز ہے۔ وہ یہ سبق دیتا ہے کہ انسان گھمنڈ کی روش ترک کر دے۔ وہ مکمل طور پر خدا پر بھروسہ کرے۔ اپنے معاملات میں اسی سے مدد کی درخواست کرے۔
مگر مذکورہ ذہن کے لئے آیت میں اس قسم کی ذاتی غذا نہیں ہوگی۔ آیت میں ایک ایسے اقتدار کا ذکر ہے جو بالفعل قائم ہے۔ مگر وہ اس سے ایک ایسا اقتدار نکال لے گا جو اسے اپنی انقلابی جدوجہد کے ذریعہ قائم کرنا ہے۔ وہ بس حکم کا لفظ لے لے گا اور پھر اپنی تقریر شروع کر دے گا :
" اقتدار صرف خدا کا ہے۔ کسی شخص یا گروہ کو حق نہیں کہ زمین پر اپنا قانون جاری کرے، حکومتی اقتدار تمام تر خدا کا ہونا چاہئے۔ مومن کا مشن یہ ہے کہ غیر خدائی سیاست کی جتنی قسمیں زمین پر قائم ہیں ان کو ختم کر دے اور زندگی کے تمام شعبوں میں خدا کا اقتدار اعلیٰ قائم کر دے۔ آیت کا مدعا یہ تھا کہ خدا کی برتری یاد دلا کر انسان کو اس کا عبادت گزار بننے پر اکسایا جائے۔ مگر فوق الفطری حکم کو سیاسی حکم کے معنی میں لے کر اس سے سیاسی مشن نکال لیا گیا ۔ ۵۔ اسی طرح مثال کے طور پر لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ کو لیجئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues