دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۵
الہٰ کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی طرف اپنی حاجتوں کے لئے رجوع کیا جائے‘ جائے۔ اور عبادت کے معنیٰ میں پیش۔ یہ مفہوم انسان کے اندر جڑ و افتقار کا مزاج پیدا کرتا اس میں اس کو یہ سبق ملتا ہے کہ بنانے بگاڑنے کا سارا اختیار صرف خدا کے پاس ہے۔ مجھے اپنی فلاح و نجات کے لئے ایسی کی طرف دوڑنا چاہئے اور اسی کے آگے اپنے کو ڈال دینا چاہئے۔ لیکن مذکورہ ذہن اس آیت میں اللہ کے معنی حاکم لے لے گا اور عبادت کو سیاسی اطاعت کے ہم معنی سمجھنے لگے گا۔ اس آیت کو پڑھ کر اس کے اندر جو جذبہ ابھرے گا وہ یہ کہ خدا ہی سیاسی حکمراں ہے اور اسی کی سیاسی اطاعت زمین پر قائم ہونی چاہئے ہے۔ بظاہر یہ ایک اچھی اور صحیح بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر اس تشریح کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آیت سے عبودیت کی جو غذا ملنی چاہئے‘ وہ آدمی کو نہیں ملے گی۔ اس کو پڑھ کر اس کے اندر سیاست آرائی کا ذہن ابھرے گا۔ وہ حکومت کے خلاف ایجی ٹیشن چلانے کو کام سمجھے گا۔ اس آیت سے اس کو سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کی غذا ملے گی نہ کہ اللہ کے آگے اپنے کو جھکا دینے کی۔
ان مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین کے مذکورہ تصور کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے ذہن میں حکم الہی کا نشانہ بدل جائے گا۔ اب اپنی ذات کے بجائے خارج کی دنیا وہ جگہ ہوگی جہاں وہ حکم الہی کی تعمیل کرنا چاہے گا۔ وہ اپنی زندگی کو بدلنے کے بجائے "نظام" کو بدلنے پر اپنی ساری نظریں جما دے گا۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے آپ سے غافل ہوں گے۔ مگر مسائل عالم کے موضوع پر گفتگو کرنے سے ان کی زبان کبھی نہیں تھکے گی۔ نماز کی "اقامت" سے انھیں زیادہ دلچسپی نہ ہوگی مگر وہ حکومت الہیہ قائم کرنے کا نعرہ بلند کریں گے۔ ان کا گھر جہاں وہ آج بھی قوام کی حیثیت رکھتے ہیں، اس میں اہل باطل کی روش کی تقلید ہو رہی ہوگی۔ مگر ملک کے اندر وہ قوام بننے کا نعرہ لگائیں گے تاکہ ملک سے باطل نظام کو ہٹایا جا سکے۔ ان کا سینہ خدا کی یاد سے خالی ہوگا مگر وہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے کی تحریک چلائیں گے تاکہ دنیا بھر میں خدا پرستی کا چرچا کیا جا سکے۔ "جزء دین" پر عمل کرنے میں وہ کوتاہ ہوں گے مگر "کل دین" کے نفاذ کے لئے وہ بین اقوامی کانفرنس کا انعقاد کریں گے۔ خواہ اس کا انعقاد عملاً وقت اور مال کے ضیاع کے ہم معنی کیوں نہ ہو۔
دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی تھی کہ سابق اہلِ کتاب ۷۲ فرقوں میں بٹ گئے، تم لوگ ۷۳ فرقوں میں بٹ جاؤ گے۔ یہ تنبیہ آج واقعہ بن چکی ہے۔ مسلمانوں میں مختلف ناموں سے بے شمار فرقے اور جماعتیں وجود میں آگئی ہیں۔ ہر ایک نے اپنا علیحدہ تنظیمی ڈھانچہ بنا رکھا ہے۔ ہر ایک کا اپنا لٹریچر ہے۔ حتیٰ کہ اپنی اپنی شرعییں اور تفسیریں تیار کر کے ہر ایک نے اپنا قرآن و حدیث بھی الگ کر لیا ہے۔ یہ صورت حکم الہی کے سراسر خلاف ہے۔ اللہ نے دینی اتحاد کی تاکید فرمائی تھی (آل عمران (۱۰۳) ہم نے اس کو دینی اختلاف میں تبدیل کر لیا۔ اسی صورت میں کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی رحمتیں اور نصرتیں ہمارے اوپر نازل ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues