دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۶
الدینی اختلاف پیدا ہونے کی وجہ ہمیشہ ایک ہی رہی ہے۔ دین کے کسی اضافی جزء کو اعتقاداً یا عملاً وہ اہمیت دینا جو دین کے حقیقی اور اساسی جزء کو ہونی چاہئے ۔ دین کے حقیقی حصہ کو قرآن میں الدین (شوریٰ ۱۳) اور اس کے اضافی اجزاء کو شرعة اور منہاج (مائدہ ۴۸) کہا گیا ہے۔ دین سے مراد وہ ابدی تعلیمات ہیں جو تمام پیغمبروں کو یکساں طور پر دی جاتی رہیں۔ مثلاً توحید، اخلاص وغیرہ ۔ شرعتہ سے مراد قانونی تفصیلات اور منہاج سے مراد پیغمبر کی سنت یا تعامل ہے۔ یہ تفصیلات اور تعامل وقتی حالات کے تابع ہوتے ہیں، اس لئے ان میں مختلف انبیاء کے یہاں فرق پایا جاتا ہے۔ قرآن میں حکم دیا گیا کہ صرف پہلی چیز کو مدار دین قرار دو۔ دوسرے امور میں توسع کا طریقہ اختیار کرو۔ اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل آیت پر غور کیجئے :
یا ایہا الرسل کلوا من الطيبات واعملوا صالحاً اے پیغمبرو پاکیزه چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو۔ میں انی بما تعملون علیم۔ وان هذه امتكم واحدة جانتا ہوں جو کچھ تم کرتے ہو۔ اور یہ تمہارے دین کے لوگ سب ایک دین پر ہیں۔ اور میں تمہارا رب ہوں۔ سمجھ واناربكم فاتقون سے ڈرو۔
اس آیت کے مطابق وہ واحد دین جو تمام پیغمبروں کے درمیان متفق علیہ ہے، یہ تھا ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ خوراک میں حلال و حرام کا لحاظ رکھنا، نیک عمل کرنا، اللہ کو علیم وخبیر جانتے ہوئے زندگی گزارنا، اللہ کو اپنا رب اور آقا بنانا، صرف اللہ سے ڈرنا۔ بعض دوسری آیتوں میں چند اور چیزوں کا اضافہ ہے۔ مثلاً حنیفیت، انابت الی اللہ، نماز، روزہ، شرک سے پر ہیز (روم۔ ۳۱) اوپر کی آیت میں عمل صالح"، ان سب چیزوں کے لئے جامع لفظ ہے۔ عمل صالح میں مذکورہ متعین اعمال کے علاوہ وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو قرآن کی دوسری آیات سے بالفاظ صریح ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً روزہ ، عدل، ترک ظلم وغیرہ۔
یہی ثابت شدہ اور متفق علیہ دین دین قیم ہے ۔ اور دین میں اصل اہمیت انھیں چیزوں کی ہے۔ انھیں کو مدار دعوت بنانا ہے اور انھیں کی بنیاد پر امر وہی کی مہم چلانا ہے (آل عمران (۱۰۴) ان کے سوا جو چیزیں شریعت اور منہاج سے تعلق رکھتی ہیں، ان میں اپنے حالات کے لحاظ سے اگر چہ لارج مآ کوئی نہ کوئی ضابطہ اور طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے ان کی حیثیت ہمیشہ اضافی ہوگی ۔ اگر ان کے معاملہ میں وہ شدت اختیار کی جائے جو حقیقی امور کی ہے تو یہ سبل متفرقہ کا اتباع (انعام (۱۵۳) ہے جو صرف اختلاف امت پر منتج ہوتا ہے۔ کیوں کہ الدین ایک ہے۔ جب کہ شریعت اور منہاج میں فرق ہے اور لازماً فرق رہے گا۔ اس فرق کی وجہ سے ان کے معاملہ میں کلی اتحاد ممکن نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر آپ ایک ایسا کام کر رہے ہیں جس کی نوعیت شریعت اور منہاج کی ہے تو اس کو یہ عنوان مت (شرعة ومنهاجا) عن ابن عباس سبيلاً وسنةً وكذا روى عن مجاهد وعكرمة وحسن البصرى وقتادة والضحاك والسدى ، ابن كثير
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues