Al-Risala · August 1978 · page 27

دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۷

دیجیے کہ یہ یہی تمام انبیاء کا مشن تھا، شریعت اور منہاج میں مختلف طریقوں کا امکان ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ایسا ہوگا کہ کسی کے لئے ایک طریقہ قابل ترجیح ہوگا کسی کے لئے دوسرا۔ اب اگر اسی کو انبیاء کا اصل مشن بتایا جائے تو مختلف لوگ مختلف چیزوں کو انبیاء کا مشن سمجھنے لگیں گے اور نتیجہ یہ ایک دین میں کئی دین بن جائیں گے۔ اور درہ تفریق فی الدین وجود میں آئے گی جو اللہ کی نظر میں سخت مبغوض ہے۔

اس مسئلہ کی مزید وضاحت کے لئے شّرعتہ اور منہاج کی ایک ایک مثال لیجیے۔

سیکڑوں برس سے مسلمانوں میں بار بار ایسے لوگ اٹھتے رہے ہیں جن کا کہنا تھا کہ لوگو ”نماز ادا کرو“ مگر ان کوششوں نے امت کے اندر کبھی کوئی نمازی فرقہ پیدا نہیں کیا۔ آج کوئی ایسا تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے جو اس لئے علحدہ سمجھا جاتا ہو کہ وہ لوگوں کو نماز کی تاکید کرتا ہے۔ اس کے برعکس کچھ اور لوگ اٹھے جنھوں نے اس قسم کے مسائل چھیڑے کہ نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں۔ آمین دھیرے سے کہنا افضل ہے یا زور سے کہنا، رفع یدین کے ساتھ نماز درست ہے یا اس کے بغیر۔ اس قسم کی بحثوں نے ملت کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ الگ الگ مدرسے، الگ الگ مسجدیں، الگ الگ جماعتی حلقے وجود میں آگئے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جو مسئلہ تفرقہ کی نوعیت کا تھا، اس کو انھوں نے الدین کی حیثیت دے دی۔ دین کا وہ حصہ جس میں ایک سے زیادہ طریقوں کی گنجائش تھی، اس کو دین کے اُس حصہ کی مانند بنانا چاہا جس میں کوئی ایک ہی طریقہ درست ہوتا ہے۔ اب منہاج کی ایک مثال لیجیے۔

مسلمان قرن اول سے لے کر اب تک ہر دور میں حکمرانوں سے نبرد آزما رہے ہیں۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ان سیاسی مقابلوں کی وجہ سے امت میں کوئی علیحدہ فرقہ بن گیا ہو جو اس حیثیت سے جانا جاتا ہو کہ یہ ”مسلم سیاسی فرقہ“ ہے۔ ساری تاریخ میں صرف دو مستثنیٰ مثالیں ملتی ہیں۔ ایک شیعہ۔ دوسرے وہ لوگ جو موجودہ زمانہ میں اپنے کو حکومت الہیہ کا علم بردار کہتے ہیں۔ شیعہ گروہ پہلی صدی ہجری میں اسلامی سیاست کا جھنڈا لے کر اٹھا۔ مگر اس کی سیاست، دوسرے سیاسی لوگوں سے بنیادی طور پر مختلف تھی۔ دوسرے لوگوں نے سیاست کو صرف سیاست (بالفاظ دیگر عملی ضرورت) کے طور پر اختیار کیا تھا۔ جب کہ شیعہ حضرات نے سیاست کو مستقل عقیدہ قرار دیا۔ سیاست اپنی نوعیت کے اعتبار سے، منہاج کے ذیل کی چیز تھی جس کی صورت وقتی حالات کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ مگر شیعہ گروہ نے سیاست کو الدین کی طرح دائمی حکم ثابت کرنا چاہا۔ خاص طرح کے مزاج کے سوا عام لوگ ان سے اتفاق نہیں کر سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امت کے اندر ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔ موجودہ زمانہ میں جو لوگ حکومت الہیہ کے علم بردار ہیں، وہ ایک اور انداز سے اسی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ (ان) کا کہنا ہے کہ مسلمان کی دائمی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کا سیاسی نظام قائم کرنے کے لئے ”اپنی جان لڑائے“، کیونکہ یہی اصل دینی مشن ہے اور اسی کے لئے خدا نے اپنے تمام رسول بھیجے تھے۔ اسلامی حکومت بجائے خود یقیناً ایک مطلوب چیز ہے۔ مگر وہ منہاج کے ذیل کی چیز ہے نہ کہ الدین کے ذیل کی۔ وہ دین کا اضافی جزو ہے نہ کہ حقیقی جزو۔ یہ کوئی علی الاطلاق مشن نہیں ہے بلکہ وقتی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اہل ایمان کی کیا ذمہ داری ہے۔ چنانچہ سارے قرآن میں کوئی ایک آیت ایسی نہیں ہے جس میں بالفاظ صریح اس طرح کا حکم دیا گیا ہو یا اس کو انبیاء کا مشن بتایا گیا ہو۔ ایسی حالت میں خاص طرح

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page