Al-Risala · August 1978 · page 28

دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف

الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۸

کی ذہنی افتاد کے لوگ ہی اس ایچ کا سانحہ دے سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ اس عقیدہ کے گرد جمع ہوئے وہ عام امت سے الگ ایک قسم کا سیاسی فرقہ بن کر رہ گئے۔

اوپر کی آیات میں جن چیزوں کو الالدین‘‘ ، قرار دیا گیا ہے ، اگر ان کی اقامت و پیروی کے لئے جدوجہد کی جائے تو امت میں کوئی نیا فرقہ وجود میں نہیں آئے گا۔ کیوں کہ یہ تمام کی تمام متفق علیہ چیزیں ہیں۔ ان کی تحریک سے اتحاد کی فضا ابھرے گی ۔ اس کے برعکس شرعہ اور منہاج کی چیزوں کو لے کر اٹھنا اور کہنا کہ یہی دین ہے ، صرف تفریق فی الدین کا سبب بنے گا ، مسلمانوں نے موجودہ زمانہ میں اسی قسم کی چیزوں کو دعوت و تحریک کی بنیاد بنا کر اپنا وہ حال کر لیا ہے جس کی تصویر اس آیت میں دی گئی ہے :

اَلَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِیَعًا ؕ كُلُّ حِزۡبٍۢ بِمَا جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا اور ہو گئے لَدَیۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ (روم ۔ ۳۲) فرقے فرقے۔

یہ فرقہ بندی کوئی معمولی چیز نہیں۔ یہ دین کی اصل روح کو ختم کر دینے والی ہے۔ دینی اتحاد کی فضا ہو تو آدمی خدا سے جڑتا ہے۔ لوگوں کی توجہ دین کے حقیقی تقاضوں پر لگی رہتی ہے۔ اس کے برعکس دینی اختلاف کی فضا ہو تو اصل دینی تقاضے دب جاتے ہیں۔ لوگ اہم کو چھوڑ کر غیر اہم کے پیچھے پڑجاتے ہیں۔ اپنے حلقے سے وابستگی کا نام لوگوں کے نزدیک دین بن جاتا ہے۔ ان کو اس اعلیٰ ایمانی سطح کا تجربہ ہی نہیں ہوتا جب کہ آدمی ہر چیز سے اوپر اٹھ کر خدا کے حضور میں چلنے لگتا ہے ۔ ورنہ ہم سنت الہی کی زد میں آجائیں گے سابق اہل کتاب (بنی اسرائیل) کو خدا کی طرف سے جو مشن سپرد ہوا ، وہ مبین کتاب (آل عمران ، ۱۸) تھا یعنی اللہ کے بندوں کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ بعد کے دور میں جب ان پر زوال آیا تو وہ اس کام کو چھوڑ کر دوسری راہوں پر چل پڑے۔ تاہم اپنے نعروں اور تقریروں میں اب بھی وہ تورات ہی کی زبان استعمال کرتے تھے۔ گویا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اقامت تورات کے لئے کر رہے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے موجودہ زمانہ کے یہودیوں کی صہیونی تحریک تمام ترایک قومی تحریک ہے۔ مگر اس کے رہنما اپنی تقریروں اور تحریروں میں تورات کے حوالے دیتے ہیں۔ ایک ایسا کام جس کا خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ، اس کو اس طرح پیش کر رہے ہیں گویا یہ سب کچھ خدائی احکام کی تعمیل میں کیا جا رہا ہے ۔ یہود کے اس طرز عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے :

وَيَحْسَبُونَ أَنَّ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ وہ چاہتے ہیں کہ جو کام انھوں نے نہیں کیا ، اس پر ان بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ کی تعریف ہو۔ ان کو عذاب سے بچاؤ میں نہ سمجھو۔ اور ان (آل عمران - ۱۸۸) کو درد ناک سزا ہو گی۔

یہی معاملہ ہر اس قوم کا ہوتا ہے جس کو خدا کی کتاب کا حامل بنایا گیا ہو۔ بعد کے دور میں جب اس قوم پر زوال

‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues

Printed page