دینی اتحاد کے بجائے دینی اختلاف
الرسالہ، اگست ۱۹۷۸، صفحہ ۲۹
آتا ہے اور وہ کتاب اللہ کو ایک چھوڑی ہوئی کتاب (فرقآن - ۳۰) بنا دیتی ہے تو یہ چھوڑنا صرف عملاً ہوتا ہے کہ لفظاً۔ اس کی زندگی اور اس کی سیاست حقیقۃً دوسری راہوں پر چل رہی ہوتی ہے مگر اس کے رہنما اپنی غیر خدا پرستانہ تحریکوں کو ہمیشہ خدا پرستانہ اصطلاحات میں بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک غیر دینی کام پر دین کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایک ایسے کام کے لئے ان کی تعریف کی جائے جس کا انہوں نے کیا نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لمبی مدت گزرنے کی وجہ سے دینی الفاظ اور تصورات اس قوم کی روایات میں شامل ہوجاتے ہیں۔ قومی قیادت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ قوم کی مانوس دینی اصطلاحات میں کلام کرے۔ اس کے بغیر نہ رہنماؤں کا اعتماد قوم کے اندر قائم ہو سکتا اور نہ عوام کا پر جوش تعاون ان کو مل سکتا ــــــــــ یہی حال موجودہ زمانہ میں مسلم قیادت کا ہوا ہے۔ انھوں نے قومی جذبات کے تحت تحریکیں اٹھائیں اور ان کو اسلام کا تقاضا بلکہ انبیاء کا اصل مشن بتاتے رہے۔ انھوں نے ایک ایسے کام کا کریڈٹ لینا چاہا جس کو انھوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا تھا۔
مسلم قیادت نے موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں کے خلاف سیاسی آزادی کی تحریکیں چلائیں اور ان کو "جہاد" کا عنوان دیا۔ حالاں کہ جہاد خدا کے دین کی اشاعت و تبلیغ کے لئے جد و جہد کا نام ہے نہ کہ کسی ایسی سیاست کا جس کا مقصد یہ ہو کہ اجنبی حکمرانوں کو ہٹا کر ملکی لوگوں کو اقتدار کے تخت پر بٹھایا جائے۔ انھوں نے سیکولر مقاصد کے تحت متحدہ قومیت کا نعرہ لگایا اور اس کو جائز نہ ثابت کرنے کے لئے "صحیفہ مدینہ" کا حوالہ دیا۔ حالاں کہ صحیفہ مدینہ کے اد پر اسلام کے غلبہ کا اعلان تھا نہ کہ کسی مشترکہ سیاسی نظام میں مسلمانوں کی شمولیت کا۔ یہ صحیفہ کوئی دو طرفہ معاہدہ نہ تھا۔ وہ "خدا کے پیغمبر محمد کی طرف سے ایک نوشتہ تھا مہاجرین قریش اور اہل یثرب کے لئے"۔ اس میں درج تھا: وانکم مهما اختلفتم فيه من شي فان مردہ الی اللہ والی رسولہ (اہل مدینہ کے درمیان جب کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہو تو اس کے فیصلہ کے لئے خدا اور اس کے رسول سے رجوع کیا جائے گا)۔ کسی اکثریت کا سیکولر ضمیمہ بننے کی کوشش سے اس صحیفہ کا کیا تعلق۔ انھوں نے معاشی اور سماجی حقوق کے حصول کے لئے احتجاج و مطالبات کی تحریک چلائی اور اپنے منشور میں یہ لکھا کہ ہم خیر امت کا کردار ادا کرنے کے لئے اٹھے ہیں۔ حالاں کہ جن اقوام کے خلاف وہ حقوق طلبی کی مہم لے کر اٹھے تھے، وہ ان کے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی تھیں اور مدعو قوم سے ’’اجر‘‘ کا مطالبہ سراسر اسلام کے خلاف ہے۔ انھوں نے انسانی بھائی چارہ اور دنیوی امن کے لئے تقریری مہم چلائی اور کہا کہ یہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا۔ کیونکہ دور جاہلیت کے حلف الفضول میں آپ شریک ہوئے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ مظلوموں کی مدد اور حق داروں کو ان کا حق دلانے کے اس معاہدہ میں آپ نے اپنی پندرہ سال کی عمر میں شرکت فرمائی تھی۔ نبوت ملنے کے بعد آپ نے فرمایا: لو دعيت به في الاسلام لاجبت (زمانہ اسلام میں بھی اگر مجھے اس کے لئے بلایا جائے تو میں لبیک کہوں گا) مگر ے اس معاہدہ کا نام حلف الفضول اس لئے پڑا کہ اس میں یہ جملہ تھا : تُرَدُّ الفضول الی اھلہا (سبیل، روض الانف) یعنی مال ان کے مالکوں کو لوٹایا جائے گا ۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1978 All issues