مراسلات ________
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۰
مراسلات ________
ماہانہ "الرسالہ" کی دسمبر ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں صفحہ ۳۲ پر مضمون " تمثیل ہے نہ کہ واقعہ" نظر سے گذرا۔ اس مضمون سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حدیث " فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ " یا حدیث " فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعٍ " میں ابہام پایا جاتا ہے۔ اور ان سے اصل مدعا واضح نہیں ہو پاتا۔ یہ حدیثیں اپنی پوری شکل میں نقل نہ ہو کر مختصر منقول ہیں ۳، سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ جس حدیث کو مضمون میں مختصر کہا گیا ہے وہ مختصر نہیں مفصل ہے: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِي جَارَهُ، وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلْعِ ، فَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْئٍ فِي الضِّعْلِ أَعْلَاهُ ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا " جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتا ہو، اسے اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچانی چاہئے۔ اور عورتوں کے حق میں بھلائی کرنے سے میری وصیت قبول کرو، کیوں کہ وہ پسلی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ جو پسلی کا سب سے بڑی ہے وہ سب سے زیادہ ٹیڑھی ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنے میں لگو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر یوں ہی رہنے دیتے ہو تو وہ ٹیڑھی رہے گی۔ پس عورتوں کے حق میں بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔ " (اخرجه البخاری)
دوسری روایت جس کو مضمون میں غیر مختصر قرار دیا گیا ہے، وہ یہ ہے:
" الْمَرْأَةُ كَالضِّلْعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَفِيهَا عِوَجٌ " ، بخاری " عورت پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھی کرنا چاہو گے تو اسے توڑ دو گے۔ اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو ٹیرھے پن کے ہوتے ہوئے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ " یہ حدیث پہلی حدیث کے مقابلہ میں مفصل نہیں ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس میں "مِنْ ضِلْعٍ" (پسلی کی) کے بجائے "كَالضِّلْعِ" (پسلی کی طرح) کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایک حدیث کو سمجھنے میں دوسری احادیث سے مدد مل سکتی ہے لیکن اس سے کسی حدیث کا مبہم یا غیر واضح ہونا ضروری نہیں ہے۔ خود قرآن کی بعض آیتوں کے سمجھنے میں دوسری آیتوں سے مدد ملتی ہے۔ حالانکہ قرآن کی تمام آیات اپنی جگہ پر مکمل ہیں۔ انہیں ناقص نہیں کہہ سکتے۔ اگر ایک مضمون کی مختلف روایات میں الفاظ کا اختلاف حدیث میں ہے : المرأة کا ضلع (عورت پسلی کی مانند ہے) دوسری روایت کے الفاظ ہیں: اِنھن خلقن من ضلع (عورتیں پسلی کی بنی ہوئی ہیں)۔ دونوں روایتوں کا مفہوم ایک ہے۔ "پسلی" کا لفظ یہاں نسوانی فطرت کی تمثیل کے لیے ہے۔ یعنی عورت کے مزاج میں، بعض مصالح کی بنا پر، ایک قسم کا ٹیڑھ یا ضِد رکھی گئی ہے۔ اس ٹیڑھ کو سمجھ کر اس سے نباہ کر۔ اس کو سیدھا کرنا ایسا ہی ہے جیسے پسلی کے خم کو سیدھا کرنے کی کوشش کی جائے۔ دوسری روایت میں "من" کا لفظ آ کی مفہوم میں ہے جس میں قرآن کی آیت خَلَقَ اِلَّا نِسْاَنَ مِنْ عَجَلَ "مِنْ" کا لفظ _________ الرساله
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues