Al-Risala · January 1978 · page 41

مراسلات ________

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۱

پایا جاتا ہے تو اس میں اس کا بھی امکان ہے کہ یہ مختلف الفاظ خود نبی صلیی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہوں۔ کسی واقعہ کا ذکر آپ نے مختلف مواقع پر فرمایا ہو اور اس کے لئے الفاظ آپ نے مختلف استعمال کئے ہوں ۔ خود قرآن میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک ہی شخص کا قول قرآن مختلف مقامات پر مختلف الفاظ میں نقل کرتا ہے لیکن اصل مفہوم اور معنی کے لحاظ سے ان میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ ”من ضلع“ اور ”کَالضَّلْعِ“ دونوں الفاظ حضور صل اللہ علیہ وسلم کے فرمائے ہوئے ہوں کسی موقع پر آپ نے ”من ضلع فرمایا ہو اور کسی دوسرے موقع پر ”کَالضَّلْعِ“ فرمایا ہو۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے اور اگر دونوں میں سے ایک روایت راوی کے اپنے الفاظ میں منقول ہوئی ہو، اس کے الفاظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ہوں، جب بھی اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ راوی کو قولِ رسول کے سمجھنے میں کوئی دھوکا ہوا ہے یا روایت کرنے میں اس سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ ”من ضلع“ اور ”کَالضَّلْعِ“ میں جیسا کہ عرض کیا گیا مفہوم کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ ”خُلِقَتْ مِنْ\ ضلع “ بالکل ایسا ہی ہے جیسے قرآن میں ہے :

خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ "بنا ہے انسان شتابی کا" یعنی انسان جلد باز مخلوق ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ہے وَكَانَ الْإِنْسَانُ عَجُولًا " اور انسان بڑا ہی جلد باز (بنی اسرائیل: (11) واقع ہوا ہے۔ "

قرآن سے ایک دوسری مثال ملاحظہ ہو:

اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مَّنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفِ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفًا وَّ شَیْبَۃً ۚ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ۚ وَہُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِيرُ "اللہ ہی تو ہے جس نے بنایا تم کو ضعیف سے، پھر اس ضعف کے بعد قوت بخشی، پھر اس قوت کے بعد ضعف اور بڑھاپا بنایا، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے "۔ پوری آیت پڑھنے سے ظاہر ہے کہ ’’خَلَقَکُمْ مِّنْ ضَعْفٍ" کا مطلب یہ ہے کہ انسان کمزور پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح ’’خُلِقْنَ مِّنْ ضِلْعٍ" ، کا صاف مطلب یہ ہے کہ عورتیں پسلی کی بنی ہیں یعنی پسلی کی طرح ان میں کمزوری اور خم پایا جاتا ہے۔ یہ نسوانی فطرت ہے۔ اس کا لحاظ ضروری ہے ۔

(مولانا) محمد فاروق خاں ۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۷۷ء زندگی کا راز جو کم پر راضی ہو جائے وہی زیادہ پاتا ہے ۔

جو زیادہ کے لئے دوڑے وہ کم سے بھی محروم رہتا ہے اور زیادہ سے بھی۔

CS CamScanner

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page