Al-Risala · January 1978 · page 42

مراسلات ________

الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۲

کیسی عجیب ہے یہ اسلامی سیاست!

پاکستان میں محمد ایوب خاں کی حکومت تقریباً گیارہ سال رہی۔ اس زمانہ میں پاکستان کے اسلام پسندوں کا نعرہ یہ تھا کہ صدر ایوب کی "بنیادی جمہوریت" نے پاکستانی عوام کو سیاسی انقلاب سے، دوسرے درجہ کا شہری بنا دیا ہے۔ بنیادی جمہوریت کے بجائے بالغ رائے دہی کے اصول کو پاکستان میں رائج ہونا چاہئے تاکہ جس کے حق میں عوام کے زیادہ ووٹ پڑیں وہ ملک پر حکومت کرے۔ محمد ایوب خاں کا انتخابی نظام بنیادی طور پر، اگر چہ وہی تھا جو امریکہ میں کامیابی کے ساتھ رائج ہے، حتیٰ کہ یہ خود اسلام سے بھی قریب تر تھا۔ کیونکہ صدر اول میں خلیفہ کا انتخاب ارباب حل و عقد کرتے تھے نہ کہ تمام بالغ رائے دہندگان۔ تاہم پاکستان کے جذباتی نوجوانوں میں اس تحریک کو بہت سے حامی مل گئے۔ بے شمار نقصانات کے بعد جمہوری تحریک کامیاب رہی اور عوام کی کثرت رائے سے مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم ہوئی۔ مسٹر بھٹو کو تقریباً چھ سال (۱۹۷۷ - پاکستان میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔

جمہوریت کی بحالی کے باوجود پاکستان میں اسلام کے علم برداروں کو کرسی اقتدار پر جگہ نہ مل سکی۔ اب انھوں نے اپنی تحریک جاری رکھنے کے لئے دوسرا لفظ تلاش کر لیا۔ اب ان کا کہنا تھا کہ مسٹر بھٹو نے دھاندلی سے الیکشن جیتا ہے۔ ورنہ پاکستان کے ۹۹ فی صد عوام ان کے خلاف ہیں۔ یہ بات عقل اور تجربہ کے لحاظ سے نا قابل فہم تھی۔ کسی ملک میں ایک شخص کے مخالفین کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے جتنی کہ مسٹر بھٹو کی بتائی جاتی ہے تو دھاندلی کی کوئی بھی مقدار اس کو کامیاب نہیں کر سکتی۔ مگر پاکستان کے باشندے، خصوصاً مہاجر لوگ، شور و شر کی سیاست سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلام پسندوں کو دوبارہ اپنے نئے نعرہ کے لئے بہت سے ساتھی مل گئے ۔ انھوں نے انتخابی دھاندلی کے خلاف زبردست طوفان برپا کر دیا۔ ارب ہا ارب روپیہ کے نقصان کے بعد بالآخران کی تحریک کامیاب رہی۔ فوجی افسروں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ۵ مارچ ۱۹۷۷ کو حکومت کی کرسی پر قبضہ کر لیا۔ انتخابی دھاندلی کو دور کرنے کی کوشش میں فوجی دھاندلی وقوع میں آگئی۔ مسٹر بھٹو نے چند سیٹوں پر دھاندلی کر کے اپنی سیٹوں کی تعداد کو بڑھایا تھا۔ فوجی افسروں نے انتخابات کا تکلف کیے بغیر ہی بزور تخت اقتدار پر قبضہ کر لیا۔

پاکستان کے نئے حکمراں جنرل ضیاء الحق نے اعلان کیا کہ ۱۸ اکتوبر کو نیا الیکشن ہوگا۔ مگر اب پاکستان کے اسلام پسندوں پر ایک نئی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ مسٹر بھٹو، وزیر اعظم کے عہدہ سے معزول ہونے کے بعد، دھاندلی کی طاقت سے محروم ہو چکے تھے، اس کے باوجود ان کے جلسے اور جلوسوں میں عوام کی سب سے زیادہ بھیڑ جمع ہو رہی تھی۔ اسلام کے علم برداروں کو اندیشہ ہوا کہ اگر الیکشن ہوتا ہے تو مسٹر بھٹو دوبارہ کسی "دھاندلی" کے بغیر ہی کامیاب ہو جائیں گے۔ ان کی اسلام پسندی نے یہاں بروقت ان کی مدد کی اور وہ ایک نیا مفید مطلب نعرہ ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ نعرہ تھا: "پہلے احتساب، پھر انتخاب"۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues

Printed page