مراسلات ________
الرسالہ، جنوری ۱۹۷۸، صفحہ ۴۳
یہ نعرہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے لئے بروقت قیمتی مدد ثابت ہوا۔ کیوں کہ وہ بھی ٹھیک اسی سیاسی مشکل میں گرفتار تھے جس میں پاکستان کے اسلام پسند گرفتار ہیں۔ اندر طہوترانے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر ایک تبصرہ شائع کیا ہے۔ اس میں وہ بجا طور پر لکھتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق موجودہ حالات میں صرف اپنی موت کی قیمت ہی پر الیکشن کر سکتے کیوں کہ سارے امکانات بتا رہے تھے کہ الیکشن کا نتیجہ بھٹو کے حق میں ہوگا۔ اور بھٹو کی کامیابی کے معنی میں جنرل ضیاء الحق کی موت :
EITHER THE GENERAL (ZIA) ELIMINATES MR. BHUTTO OR HE SHOULD BE PREPARED FOR HIS OWN ELIMINATION. جنرل ضیا را حق یا تو مسٹر بھٹو کو ختم کر دیں۔ یا پھر انھیں خواہ اپنے خاتمہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔
(ٹائمس آف انڈیا ۳۰ نومبر 1977)
علم بردارانِ اسلام کے مطالبہ نے فوجی حکمرانوں کو موقع دے دیا کہ وہ اپنے اوپر ذمہ داری لئے بغیر ۱۸ اکتوبر“ کے الیکشن کو غیر متعین مدت تک کے لئے ملتوی کر سکیں۔ انھوں نے فوراً اس مطالبہ کو مان کر الیکشن کے التوا کا اعلان کر دیا۔ اور مجرمین کے ”احتساب“ کے مقدس فریضہ میں مشغول ہو گئے ۔
تاہم یقینی ہے کہ ”عمل احتساب“ کی تکمیل بھی اسلام کے علم برداروں کے لئے تخت اقتدار تک پہنچنے کا زی نہ بن سکے گی۔ اب دیکھنا ہے کہ ان کا زرخیز سیاسی ذہن اس کے بعد کون سا نیا نعرہ تلاش کرتا ہے ۔ دسمبر1977 کے پہلے ہفتہ میں خان عبدالولی خاں کی رہائی نے پاکستان کو دوبارہ دس سال پہلے والی سیاست کی طرف لوٹا دیا ہے۔ اُس وقت محمد ایوب خاں کے زور کو توڑنے کے لئے بنگالی لیڈر کو باہر لایا گیا تھا۔ اب مسٹر بھٹو کا زور توڑنے کے لئے پشتونی لیڈر کو میدان سیاست میں داخل کیا گیا ہے۔ اگر یہی اسلامی سیاست ہے تو مجھے نہیں معلوم کہ غیر اسلامی سیاست پھر کس دوسری چیز کا نام ہوگی۔
حضرت عثمان کی خلافت کے زمانے میں مصر سے جزیہ کی آمدنی ایک کروڑ بیس لاکھ درہم سالانہ تھی۔ امیر معاویہ کے زمانہ میں وہ صرف پچاس لاکھ رہ گئی۔ کیوں کہ مصر کے قبطی عیسائی اُس مدت میں کثرت سے مسلمان ہو گئے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں یہ رقم اور بھی کم ہو گئی، مصر کے عامل نے ان کو لکھا کہ " قریب ہے کہ مصر کے تمام ذمی مسلمان ہو جائیں اور جزیہ کی آمدنی بالکل بند ہو جائے"، خلیفہ عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: اگر ایسا ہوا تو میں بہت خوش ہوں گا۔ کیوں کہ اللہ نے اپنے رسول کو داعی اسلام بنا کر بھیجا تھا نہ کہ محصول وصول کرنے والا"، نہ خراسان کے عامل نے ایک بار لکھا کہ " بہت سے لوگ جو مسلمان ہو گئے ہیں، انھوں نے جزیہ سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کیا ہے! " اپنے دعوے کے ثبوت میں اس نے لکھا کہ " یہ لوگ کلمہ پڑھ لیتے ہیں مگر ختنہ نہیں کراتے"، عمر بن عبدالعزیز نے جواب دیا: " اللہ نے اپنے رسول کو داعی بنا کر بھیجا، خائن بنا کر نہیں بھیجا"
مسلمان اگر دوسری قوموں سے دنیوی حقوق کا جھگڑا شروع کر دیں تو یہ رسول کے ساتھ غداری کے ہم معنی ہوگا۔ خود وہ رسول پر درود و سلام پڑھ کر ایسا کر رہے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1978 All issues