Al-Risala · October 1978 · page 6

خوشامدی ماتحتوں کا جمع ہونا بری علامت ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۶

ان کے پاس کسی کی غیبت کرنا۔

عامر کہتے ہیں ۔ میں نے عبداللہ بن عباس سے کہا۔ ان میں سے ہر نصیحت ہزار کے برابر ہے۔ انھوں نے کہا، ہر نصیحت دس ہزار سے بہتر ہے۔

خوشامدی ماتحتوں کا جمع ہونا بری علامت ہے

عائشہ رضی اللہ عا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی صاحب امر کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو سچا وزیر دے دیتا ہے کہ اگر وہ بھول جائے تو وہ اس کو یاد دلائے۔ اور اگر یاد نہ ہو تو اس کی مدد کرے ۔ اور جب وہ کسی صاحب امر کے ساتھ اس کے برعکس ارادہ کرتا ہے تو اس کو بُرا وزیر دے دیتا ہے۔ اگر وہ بھول جائے تو یاد نہ دلائے، اور اگر یاد ہو تو مدد نہ کرے ۔ (ابوداؤد)

لفظی عقیدت مندی حقیقی تعلق کا ثبوت نہیں

جبیر بن نفیر کہتے ہیں ۔ میرے والد نے بتایا کہ ایک روز ہم مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا۔ صحابی کو دیکھ کر اس نے کہا: کیسی خوش نصیب ہیں یہ دونوں آنکھیں جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ واللہ ہماری تمنا ہے کہ جو کچھ آپ نے دیکھا ہم بھی اسے دیکھتے اور جن مواقع میں آپ شریک ہوئے ہم بھی ان میں شریک ہوتے۔ مجھے اس آدمی کی بات پسند آئی ۔ میں نے سوچا کہ اس نے جو کچھ کہا خیر کہا۔ مگر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھ کر نہ فرمایا: تم میں سے کسی کو ان مواقع میں حاضری کی تمنا نہ کرنی چاہیے جن سے اللہ نے اس کو بری رکھا ہے۔ کیا معلوم وہ اس موقع پر ہوتا تو کیا کرتا۔ خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سے ایسے لوگ آئے جن کو اللہ نے جہنم میں دھکیل دیا۔ انھوں نے نہ آپ کا کہا مانا اور نہ آپ کی تصدیق کی۔ کوفہ کے ایک آدمی نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو عبداللہ کیا آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ان کی صحبت میں رہے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا ”ہاں اے میرے بھتیجے “ یہ کوفی نے کہا آپ لوگ کیا کرتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے کہا ”خدا کی قسم ہم مشقتیں برداشت کرتے تھے “، کوفی نے کہا: خدا کی قسم اگر ہم آپ کو پالیتے تو آپ کو زمین پر چلنے نہ دیتے۔ اپنی گردنوں پر آپ کو اٹھائے پھرتے۔ حضرت حذیفہ کہا: انت کنت تفعل ذلک (مسلم) تم ایسا کرتے !

وقتی جوش دکھانے کا نام اسلام نہیں

غزوہ احد (۳ھ) میں ایک مسلمان شریک ہوا اور لڑ کر مارا گیا۔ اس کی ماں کو معلوم ہوا تو اس نے کہا وا شهیداہ (ہائے شہید)۔ آپ نے سنا تو فرمایا:

مه، ما يدريك انه شهيد ولعله كان ٹھیکرو۔ کیا معلوم کہ وہ شہید ہوا۔ شاید وہ بے فائدہ يتكلم فيما لا يعنيه ويبخل بمالا ينقصه باتیں کرتا رہا ہو اور اس چیز کو دینے میں بخیل رہا ہو (ترمذی) جس کو دینے میں اس کا کوئی نقصان نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page