Al-Risala · October 1978 · page 17

تنقید کی ایک قسم یہ بھی ہے

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۷

تنقید کی ایک قسم یہ بھی ہے

ایچ ایچ آچاءیہ پنڈت پریم کشور (پیدائش ۱۹۰۸ء) ایک ہندو عالم ہیں۔ وہ عربی اور ادو زبانیں بھی اچھی جانتے ہیں اور الرسالہ کے مستقل قارئین میں سے ہیں۔ ۱۶ جون ۱۹۷۸ء کی ایک ملاقات میں انھوں نے کہا : " آپ کی دعوت کے بارے میں مسلم علماء کار رد عمل کیا ہے ۔ میں نے کہا علما ر کی ایک تعداد ہمارے ساتھ ہے ، تاہم ایک طبقہ ہمارا مخالف بھی ہے۔ میں نے بتایا کہ ہندوستان کے ایک مشہور ترین مذہبی ادارہ کے ماہانہ آرگن میں " الاسلام " پر تبصرہ شائع ہوا ہے۔ اس تبصرہ میں ہمارے اس مسلک پر گرفت کی گئی ہے کہ ہم موجودہ زمانہ کے مسلم مصلحین پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مذکورہ ماہنامہ ہمارے بارے میں لکھتا ہے :

" مصنف اسلامی دعوت اور اسلامی تاریخ کے بزعم خود بڑے مبصر ہیں۔ انھوں نے کس طرح اس حقیقت کو فراموش کر دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں انبیاء سابقین اور ان کی دعوت وہدایت کے احترام کا جذبہ موجود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سابق کسی نبی کا انکار نہیں فرمایا۔ کسی نبی کی دعوت وہدایت پر تنقید نہیں کی بلکہ سب انبیاء کی تصدیق ، سب کا احترام اور سب کی لائی ہوئی شریعتوں کو سچا مانا اور سچ بتایا۔ "

دارالعلوم ، اگست ۱۹۷۷ء

پنڈت جی یہ سن کر حیرت میں پڑ گئے۔ " یہ تنقید اگر چھپی ہوئی نہ ہوتی تو میں یقین نہ کرتا کہ کوئی عالم ایسی کم زور بات کہہ سکتا ہے۔ یہ تو ایک معلوم بات ہے کہ پیغمبر سارے معصوم ہوتے ہیں اور سب خدا کی طرف سے آتے ہیں۔ ان کا ہر سپر حق ہونا یقینی ہوتا ہے۔ پھر ان پر تنقید کا کیا سوال ۔ جب کہ عام مصطفیٰ کی حیثیت زیادہ سے زیادہ ایک مجتہد کی ہے اور آپ کے یہاں طے شدہ ہے کہ "المجتہد یخطی و یصیب مجتہد غلطی بھی کرتا ہے اور صحیح بھی)

اس کے بعد انہوں نے کہا۔ اس تنقید پر مجھ کو ایک لطیفہ یاد آگیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لطیفہ اس قسم کی تنقیدوں پر بہت خوبی سے چسپاں ہوتا ہے۔

جاٹ اور تیلی ایک ساتھ جارہے تھے۔ تیلی نے کہا: ’’جاٹ رے جاٹ تیرے سر پر کھاٹ جاٹ نے یہ سن کر سوچا کہ تیلی تو بازی لے گیا۔ مجھے بھی اس کے توڑ میں کچھ کہنا چاہئے، وہ بولا:

تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولھو

تیلی نے کہا یہ تو کچھ تک نہیں بیٹھا۔ جاٹ نے فوراً کہا : تک نہ ہو تو کیا۔ تو بوجھ کے نیچے تو مرے گا۔ ظہورِ اسلام کا پہلا صفحہ غلط ہے۔ مصنف کو شاہ ولی اللہ پر اعتراض ہے کہ وہ الہمنی دینی کی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ اور ظہورِ اسلام کے دیباچہ میں انہوں نے خود اپنے بارہ میں یہی بات لکھ دی۔ “ یہ تنقید بھی ویسی ہی ہے جیسے کوئی کہے "تیلی رے تیلی تیرے سر پر پہاڑ۔ تیلی پوچھے کہ میرے سر پر پہاڑ رکھا کس نے۔ تو وہ جواب دے: کچھ بھی ہو تمہارا سر تو ٹوٹا۔

ظہورِ اسلام میں جو بات کہی گئی ہے وہ "القاری" کی نوعیت کی ہے نہ کہ وحی والہام کی نوعیت کی۔ القاری کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے۔ جب کہ وحی والہام صرف انبیاء کرام کے لئے مخصوص ہے ۔ " میرے رب نے مجھ کو الہام کیا" صرف پیغمبر کہہ سکتا ہے جب کہ یہ کہنا ہر ایک کے لئے جائز ہے کہ "میرے ذہن میں وارد ہوا“

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page