تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولھو
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۸
اللہ کی بڑائی کی یاد نے ان کی زبانیں بند کر دی ہیں عن عقبۃ بن عامر قال لقیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت ما النجاة - فقال : املك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك عقبہ بن عامر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ نجات کا راستہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا : اپنی زبان کو رو کے رکھو، گھر میں بیٹھے رہو اور اپنی خطاؤں پر روؤ۔
اپنی زبان کو قابو میں رکھ کر بولنا ، اپنے قریبی دائرہ کو اپنا میدان عمل سمجھنا اور اپنے "کارناموں" کے بجائے اپنی کوتاہیوں کو یاد رکھنا ایمان کی علامتیں ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت میں نجات کے مستحق قرار پائیں گے ۔
وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس کی آخر عمر میں جب کہ ان کی بینائی جاتی رہی تھی، میں ان کو لئے جا رہا تھا۔ وہ مسجد حرام میں پہنچے۔ وہاں ایک مجمع کی طرف سے کچھ جھگڑنے کی آواز سنائی دی۔ فرمایا مجھے اس مجمع کی طرف لے چلو۔ میں ان کو وہاں لے گیا۔
وہاں پہنچ کر عبداللہ بن عباس نے سلام کیا۔ ان لوگوں نے بیٹھنے کے لئے کہا تو آپ نے انکار کیا اور یوں بولے: "تم کو معلوم نہیں کہ اللہ کے خاص بندے وہ لوگ ہیں جن کو اس کے خوف نے چپ کر رکھا ہے، حالانکہ وہ نہ عاجز ہیں، نہ گونگے، بلکہ فصیح لوگ ہیں، بولنے والے ہیں اور سمجھ دار ہیں۔ مگر اللہ کی بڑائی کی یاد نے ان کی عقلوں کو اڑارکھا ہے۔ ان کے دل اس کی وجہ سے ٹوٹے رہتے ہیں۔ اور ان کی زبانیں چپ رہتی ہیں۔ جب اس حالت پر ان کو بینگی ہو جاتی ہے تو اس کی وجہ سے وہ نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ تم لوگ ان سے کہاں ہٹ گئے؟ "
وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کو بھی ایک جگہ اس طرح جمع نہیں دیکھا۔ آپس کی لڑائیاں ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اِنی لست اخشى عليكم ان تشركوا ولكن أخشى عليكم الدّنيا أن تنافسوا فيها وتقتتلوا فتهلكوا كما هَلَكَ من كان قبلكم (متفق عليه)
مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگوگے ۔ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا چاہنے لگو گے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑوگے ۔ یہاں تک کہ اسی طرح ہلاک ہوگے جس طرح پچھلی امتیں ہلاک ہوگئیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues