Al-Risala · October 1978 · page 19

تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولھو

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۱۹

قدیم عرب سے باقاعدہ حکومت نہ تھی ۔ طاقت ور کمزور کوستا تا اور اس کو لوٹ لیتا تھا ۔ کچھ سر بر آوردہ لوگوں نے مل کر یہ عہد کیا کہ وہ کمزوروں کا ساتھ دیں گے اور مظلوم کو اس کا حق دلوائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر جو معاہدہ لکھا گیا ، اس میں ایک جملہ تھا جس میں فضول کا لفظ تھا :

تُرَدُّ الفضول الى اهلها (سھیل، روض الانف)

مال ان کے مالکوں کو واپس کیا جائے گ1۔ حلف اس وجہ سے اس عہد نامہ کا نام حلف الفضول پڑ گیا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تقریباً پندرہ سال کی تھی کہ عرب کی مشہور لڑائی حربِ فجار (۵۸۱ء) کا چوتھا اور آخری مقابلہ ہوا۔ اس جنگ میں ایک طرف قبائل کنانہ تھے اور دوسری طرف قبائل قیس ، کافی نقصان اٹھانے کے بعد بالاخر دونوں فریقوں میں صلح ہوگئی۔ اس کے بعد آپ کے چچا زبیر بن عبد المطلب کی تحریک پر عبد اللہ بن جدعان (رئیس قریش) کے مکان پر ایک اجتماع ہوا۔ اس میں یہ بات زیر غور آئی کہ کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے جس سے آئندہ ملک میں امن وامان قائم ہوسکے ۔ بالآخر یہ طے ہوا کہ حلف الفضول کی تجدید کی جائے جو اس کے ابتدائی معاہدین کے بعد ختم ہو گیا تھا۔ بنو ہاشم ، بنو مطلب ، بنواسد ، بنوزہرہ ، بنو تمیم نے قسم کھا کر اقرار کیا کہ وہ ملک میں بدامنی کو دور کریں گے ، مسافروں کی حفاظت کریں گے ۔ غریبوں کی مدد کریں گے مظلوموں کو ان کا حق دلائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے خاندان والوں کے ساتھ اس معاہدہ میں شریک تھے۔ بعد کو زمانہ نبوت میں آپ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

لقد شهدت مع عمومتی حلفاً فی دار میں اپنے چچاؤں کے ساتھ معاہدہ میں شریک ہوا تھا۔

عبد الله بن جدعان ما احب لى به حمر النعم ۔ اس کے بدلے اگر مجھ کو سرخ اونٹ بھی دیئے جاتے تو میں ولو د عبيت به فى الاسلام لا جبت ان کو قبول نہ کرتا ۔ اور اب زمانہ اسلام میں بھی اگر مجھے اس کے لئے بلایا جائے تو میں لبیک کہوں گا ۔

اس معاہدہ کے سلسلے میں دو باتیں بالکل واضح ہیں ۔

ا۔ حلف الفضول دوروں اور تقریروں کی کوئی مہم نہ تھی۔ یہ ایک عملی پروگرام تھا جس میں کچھ سر بر آوردہ لوگوں نے قسم کھا کر اپنے آپ کو اس کا پابند کیا تھا کہ وہ مظلوم کی مدد کے لئے پہنچیں گے اور حق دار کو اس کا حق دلائیں گے۔ ۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پندرہ سال کی عمر میں اس عہد نامہ میں شریک ہوئے تھے تا ہم نبوت ملنے کے بعد آپ نے جس چیز کو اپنا مشن بنایا وہ مذکورہ عہد نامہ نہ تھا۔ آپ کا مشن تو توحید و آخرت تھا۔ وہ چیز جس پر آپ نے پوری زندگی لگائی ، وہ تھا شرک سے لوگوں کو ہٹا کر ایک خدا کا پرستار بنانا اور دنیا پرستانہ زندگی کے بجائے آخرت پسندانہ زندگی پیدا کرنا ۔ آپ نے ایک موقع پر یہ ضرور فرمایا کہ آج بھی اگر کوئی مجھے حلف الفضول والے کام کی طرف پکارے تو میں لبیک

‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues

Printed page