خدا کا خوف حکمت کا خزانہ ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۰
کہوں گا۔ مگر اس کو آپ نے دوسرے کی پکار پر مشروط رکھا۔ خود آپ نے اس کو اپنا مشن نہیں بنایا۔ اس کی وجہ تھی کہ حلف الفضول جیسے کسی کام کی حیثیت زیادہ سے زیادہ دنیوی فلاح کے ایک پروگرام کی ہے۔ جب کہ نبی اس لئے آتا ہے کہ وہ لوگوں کو فلاح آخرت کا راستہ دکھائے۔ نیز یہ کہ خود دنیوی اخلاقیات بھی حقیقی معنوں میں خدا کے خوف ہی سے پیدا ہوسکتی ہیں نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔
خدا کا خوف حکمت کا خزانہ ہے
قرآن إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر28)
اللہ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔
رأس الحكمة مخافة الله دانائی کا سرا اللہ کا خوف ہے بائبل مخافة الرب رأس المعرفة بائبل خدا کا خوف علم کا شروع ہے THE FEAR OF THE LORD IS THE BEGINNING OF KNOWLEDGE خدا کا خوف سادہ معنوں میں صرف ” ڈر کا نام نہیں ہے، وہ حقیقت کی اعلیٰ ترین یافت ہے۔ وہ آدمی کے اوپر عقل و دانش کا دروازہ کھولتا ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ نفسیاتی واقعہ ہے کہ اندیشہ کے احساسات آدمی کے اندرون کو جگاتے ہیں۔ جب کہ اطمینان اور قناعت کے احساسات اس کے اندرون کو سلا دیتے ہیں۔ جب آدمی اپنے کو خطرہ کی حالت میں محسوس کرے تو اس کی فکری قوتیں زیادہ گہرائی کے ساتھ کام کرنے لگتی ہیں اور جب وہ اپنے کو بے خطر محسوس کرے تو اس کا ذہن کند ہو جاتا ہے۔ سامنے کے حقائق بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ خوف سے مستقبل کے متعلق سوچنے کا ذہن پیدا ہوتا ہے اور بے خوفی سے حال کے اندر گم رہنے کا۔
مشہور بزرگ شبلی نے کہا ہے "جب بھی میں اللہ سے ڈرا ہوں تو اس کی وجہ سے مجھ پر حکمت و عبرت کا ایسا دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے میرے اوپر کھلا ہوا نہ تھا۔ خوف خدا کے بغیر سچی دینداری پیدا نہیں ہو سکتی۔ حسن بصری نے فرمایا : عالم وہ ہے جو دیکھے بغیر اللہ سے ڈرے۔ وہی چیز پسند کرے جو اللہ کو پسند ہے اور اس سے کوئی دل چسپی نہ رکھے جو اللہ کو ناپسند ہے۔ (العالم من خشى الرحمن بالغیب ورغب فيما رغب الله فيه وزهد فيما سخط الله فيه (تفسیر ابن کثیر)
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues