خدا کا خوف حکمت کا خزانہ ہے
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۷۸، صفحہ ۲۱
کسی کے نزدیک اسلام ایک عملیاتی نسخہ ہے ، اپنی زندگی کے ساتھ اسلام کے عملیاتی ضمیمہ کو جوڑ لو اور سیدھے جنت میں پہنچ جاؤ۔ کوئی سارے معاملے کو بزرگوں کا معاملہ سمجھتا ہے ، کسی زندہ یا مردہ بزرگ کا دامن تھام لو اور ان کی برکت سے دونوں جہان کی نعمتیں سمیٹ لو ۔ کچھ لوگ ہیں جن کو خوش قسمتی سے اور بھی زیادہ کامیاب طریقہ حاصل ہوگیا ہے ، شان دار تقریریں کرو اور اس کے بعد دنیا میں لیڈری ہے اور آخرت میں جنت الفردوس ۔ یاد رکھئے ۔ جنت اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے کہ اس قسم کے سستے سکوں سے حاصل ہو جائے ۔ کوئی شخص ایسا نہیں کرے گا کہ اپنے لڑکے کو کامیاب ڈاکٹر بنانے کے لیے اس کو عملیاتی ورزشیں کرانے لگے۔ یا لڑکے کو کسی پہنچے ہوئے درویش سے بیعت کرائے اور ان کی برکت کے بھروسے پر بیٹھ جائے۔ یا ڈاکٹر کانفرنس“ کے پنڈال پر لڑکے کو ہار پہنا کر سمجھ لے کہ اس نے بیٹے کا کلینک کھولنے کا یقینی انتظام کر لیا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اسلام کے بارے میں لوگوں نے اسی قسم کے سستے نسخوں پر امیدوں کے عالی شان محل بنا رکھے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت اسی طرح سرگرمیوں کی ایک زیادہ اعلیٰ جگہ ہے جس کا ایک اسفل نمونہ ہم موجودہ دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی مقام اسی کو ملتا ہے جو اس کی قابلیت پیدا کرے ۔ اسی طرح آخرت کے مناصب اور مقامات پر وہی لوگ فائز کئے جائیں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کیا ہو : مراد کو پہنچا جس نے اپنے جی کو سنوارا اور نامراد ہوا قد أفلح من زكها وقد خاب من دشها جس نے اس کو خاک میں ملایا (ترجمہ شاہ عبد القادر)
قوم ثمود کے سامنے ایک اونٹنی ظاہر ہوئی ۔ انھوں نے چاہا کہ اس کو ہلاک کر دیں ۔ ان کے رسولوں نے ان کو متنبہ کیا کہ اس کو تم ”اونٹنی“ ، کا معاملہ نہ سمجھو۔ یہ ایک خدائی معاملہ ہے ۔ مگر ان کی سمجھ میں بات نہ آئی ۔ انھوں نے خدا کی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اپنی آنکھوں کو اندھا بنا رکھا تھا ۔ ان کو ”اونٹنی“ دکھائی دی ۔ مگر خدا نظر نہ آیا ۔ انھوں نے بڑھ کر اونٹنی کو مار ڈالا۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ برتری اور بہادری کا ٹائٹل لے رہے ہیں ۔ حالاں کہ ایسا کر کے وہ اپنے اندھے پن کا ثبوت فراہم کر رہے تھے۔ وہ بھول گئے کہ آخرت کی دنیا ان لوگوں کے لیے ہے جو اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ ”اونٹنی“ سے گزر کر خدا کو دیکھنے کی استعداد رکھتے ہیں ۔ جن کو اونٹنی نظر آئے مگر خدا نظر نہ آئے ، وہ خدا کے نزدیک صرف اندھے ہیں اور اسی حال میں وہ اگلی دنیا میں اٹھائے جائیں گے ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے :
” جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا ، اس کے لئے تنگ گزران ہے ۔ قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے ۔ وہ کہے گا اے میرے رب ! کیوں تو نے مجھ کو اندھا اٹھایا ، دنیا میں تو میں آنکھ والا تھا ۔ جواب ملے گا کہ اسی طرح پہنچی تھیں تمہارے پاس ہماری نشانیاں پس تم نے ان کا کچھ خیال نہ کیا ۔ اسی طرح آج تھا ما کچھ خیال نہ کیا جائے گا ۔ (طه)
دنیا میں جن لوگوں نے ” اندھے پن “ کا ثبوت دیا مودہ آخرت میں ” بینائی“ کے مناصب پر کیسے فائز کئے جاسکتے ہیں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1978 All issues